آزمائش اور بدقسمتی میں فرق

ایک دن میں فروٹ لینے کے لیے گیا۔ مارکیٹ میں فروٹ کی کئی دکانیں سجی ہوئی تھیں مگر ایک شخص صرف کیلے ہی بیچ رہا تھا۔ کیلے دور سے ہی بہت اعلیٰ قسم کے نظر آ رہے تھے۔ میں نے سوچا کیلے واپسی پر اِسی سے لوں گا۔ جب میں اس کے پاس آیا تو وہ کسی سے فون پر پوچھ رہا تھا کہ بچہ ملا یا نہیں۔ مجھے بہت تشویش ہوئی۔ پوچھا تو پتا چلا کہ یہ دکان کسی اور کی ہے۔ اُس کا بچہ گم ہو گیا ہے اور وہ اُسے ڈھونڈھ رہا ہے۔ یہ سُن کر مجھے بھی اپنے دل میں ایک ماں کا غم اور باپ کا دکھ محسوس ہوا جیسا کہ ہر کسی کو ہوتا ہے۔ میرے دل سے اُن کے لیے بے اختیار دعائیں نکلیں۔ بچوں کا معاملہ ہی ایسا ہے۔ بچوں کی تو ہر کوئی خیر مانگتا ہے چاہے چڑیا کے ہی کیوں نہ ہوں۔ خیر، میں نے کیلے لیے اور چلا گیا۔

مجھے بہت فکر سی رہی۔ اگلے دن میں صرف اُس بچے کا ہی پتا کرنے کے لیے دوبارہ وہاں گیا۔ وہی آدمی بیٹھا تھا جس نے مجھے کیلے دیے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا جی بچہ مل گیا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ وہ مجھے. ایک منٹ ٹھرئیے کہہ کر بھاگا اور ساتھ ایک آدمی کو لے کر آ گیا کہنے لگا اِس کا تھا جی بچہ۔ میں نے اُسے گلے سے لگایا اُسے پیار کیا، پوچھا، تو اُس نے بچے کے گُم ہونے کی کہانی سنائی اور کہا کہ ہماری بڑی بد قسمتی تھی۔۔۔

جب اُس نے بد قسمتی کا لفظ استعمال کیا تو میں نے اُسے کہا کہ یہ تمہاری آزمائش تھی۔ بد قسمتی نہیں تھی اور اپنے لیے یا کسی اور کے لیے بھی کبھی بد قسمتی کا لفظ استعمال نہ کرنا۔

پھر میں نے اُسے سمجھایا کہ آزمائش وہ ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ایمان کو پرکھ رہا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ اُسے مضبوط اور طاقت ور بنانے کے لیے اُس کی تربیت بھی کر رہا ہوتا ہے۔ سمجھنے کے لیے اگر ہم ایک لڑکے کی فوج میں بھرتی کے بعد تربیت کی مثال لیں تو اُسے تربیت کے کئی مراحل سے گزارا جاتا ہے جیسے کہ اُسے ایک خاص فاصلے تک دوڑایا جاتا ہے۔ اُسے اس سے زیادہ اس لیے نہیں دوڑایا جاتا ہو سکتا ہے کہ وہ برداشت نہ کر سکے۔ اُسے ایک خاص اونچائی سے چھلانگ لگانے کو کہا جاتا ہے۔ اُس سے زیادہ اونچائی سے چھلانگ لگانے کو نہیں کہا جاتا۔ اِس دوران ڈاکٹر ساتھ ہوتا ہے۔ ایمبولینس تیار کھڑی ہوتی ہے۔ چار انسٹکٹر موجود ہوتے ہیں۔ اِس سب بندوبست کا مقصد اُسے مضبوط کرنا اور آنے والی مشکلات سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی جب اپنےبندے کی پرکھ اور تربیت کرتا ہے تو وہ اُس کو اتنی مشکل میں نہیں ڈالتا جسے وہ سہہ نہ سکے۔ اِس دوران وہ ہر لمحہ اُس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اُس کی نظر ہر وقت اپنے بندے پر ہوتی ہے۔ اُس کے حُکم سے فرشتے اُس کے ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں تاکہ جہاں وہ گرنے لگے تو وہ اُسے سنبھال سکیں۔ وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اُس کا بندہ اِس تربیت کو اعذاب سمجھتا ہے یا تربیت سمجھ کر اُس کا شُکر ادا کر رہا ہوتا ہے اور کیا وہ اِس مرحلے میں کامیاب ہونے کے لیے اُس سے مدد مانگتا ہے یا گِلے شکوے کرتا ہے۔ ۔ یہ ہوتی ہے اُس کی پرکھ اور تربیت۔

انسان کی بد قسمتی تب آتی ہے جب اللہ تعالیٰ اُس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اُس وقت نہ کوئی فرشتہ اُس کے ساتھ ہوتا ہے نہ ہی کوئی اچھا انسان۔ وہ اکیلا اور اُس کے چاروں طرف مصیبتیں۔ پھر اُسے بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اُس وقت اُس کی دعا قبول ہونا بند ہو چکی ہوتی ہے۔

پتا نہیں کون ہوگا جو اللہ نہ کرے، بد قسمت ہو، اگر ہم اپنی ساری پچھلی زندگی دیکھیں تو آج تک جتنی بھی مشکلات آئیں اللہ ہمارے ساتھ تھا۔ تبھی تو ہم اُن مشکلات میں سے گزر گئے۔ تبھی تو آج زندہ سلامت ہیں صحت مند ہیں اُس کی نعمتوں سے مستفید اور بہرہ مند ہو رہے ہیں۔

اب مجھے بتاؤ کہ تم لوگ، تم اور تمہاری بیوی، اُس بچے کو ساری عمر کے لیے اپنی نظروں سے اوجھل یا اپنے دھیاں سے دور ہونے دو گے۔ اب اُس کا خیال پہلے کی طرح رکھو گے یا اُس سے کہیں زیادہ! اب اُس نے تمہارے بچے کو تمہارے ہی زریعے اور زیادہ محفوظ کردیا ہے۔ تمہارے دل میں اُس کے لیے پیار اور اُس کی قدر اور بڑھا دی ہے۔ یعنی اللہ نے اُس بچے پر اپنی رحمت پہلے سے کہیں زیادہ کر دی ہے۔

یہ سب سننے کے بعد اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ تشکر کے آنسو۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidآزمائش اور بدقسمتی میں فرق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *