آپ کا بچہ نالائق نہیں ہے

اس بات پر میرا پورا یقین ہے کہ ساری دنیا میں جھگی سے لے کر محل تک ایک بھی بچہ نالائق نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کا کوئی بھی بچہ نالائق ہو ہی نہیں سکتا۔ اس بات کو سمجھانے کے لئے ہم ایک مثال پر غور کرتے ہیں۔
ایک شہنشاہ ۔ دنیا کا سب سے بڑا شہنشاہ، بے حد سمجھدار، دولت مند اور طاقتور، ایک بہت شاندار گھر بنانا چاہتا ہے۔ دنیا کا بے مثال گھر۔ اپنے وزیر سے کہتا ہے کہ میں ایسا گھر بنانا چاہتا ہوں جو کوئی دیکھے تو محو حیرت ہو جائے۔
ساری دنیا سے سوچنے والے اعلیٰ لوگ ڈھونڈ کر لاؤ جو یہ بتا سکیں کہ اعلیٰ گھر کیسا ہو سکتا ہے۔ وزیر کچھ لوگوں کو ڈھونڈ کر لے آتا ہے سب اپنا اپنا تصور پیش کرتے ہیں مگر شہنشاہ کو کوئی بھی خیال پسند نہیں آتا۔ آخرکار ایک ایسا شخص ملتا ہے جو کہتا ہے کہ شہنشاہ معظم مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ اعلیٰ گھر کیسا ہوتا ہے ۔ مگر مجھے یہ اندازہ ہے کہ جنت میں گھر کیسے ہونگے۔ اس طرح کی عمارت ہوگی۔ یوں نہریں بہہ رہی ہونگی چاروں اطراف میں باغات ہونگے پھول او رپھل اس طرح کے اور درخت اس انداز میں لگے ہونگے کہ پورب سے پچھم کی ہوا چلے تو اس قسم کی خوشبو خوشبو آئے گی اس طرح سے ہوا چلے تو یہ خوشبو آئے۔ ہوا کا رخ بدلے تو اس قسم کی خوشبو آئے. سورج چڑھے تو لگے کہ کائنات کا نور ظاہر ہو گیا۔ دن ڈھلے تو شفق گھر کو اپنے رنگوں میں لپٹ لے۔ بادل آئیں تو ایسا نظارا ہو بارش ہو تو یوں موسم سہانا ہو جائے‫. وغیرہ وغیرہ ۔ 
شہنشہاہ کو یہ خیال و انداز بہت پسند آیا اور وزیر سے بولا ان حضرت کو شاہی مہمان خانے میں لے جاؤ اور دنیا کے سب سے بڑے ماہر تعمیرات کو بلاؤ جو ان حضرت کی بات سن کر ایسے ہی ایک محل کا ایک نقشہ تیار کریں پھر کاریگروں کے لئے کہا کہ کاریگر ایسے لائیں کہ ان کا کام خود بولنا شروع کردے اور میٹریل تو اس دنیا کا ہو ہی نہ ۔ نئی کانیں کھودو اور ایسے میٹریل دریافت کرو کہ دنیا نے اس سے پہلے دیکھا ہی نہ ہو اور ہاں خزانے کے دروازے تمہارے لئے کھلے ہیں جتنا چاہو استعمال کرو مگر کوالٹی میں کمی نہ آئے اور اگر خزانہ کم پڑ جائے تو مجھے بتا دینا میں اور بندوبست کر دوں گا۔ 
میں یہاں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر ایسا محل بن جائے تو کیا وہ کوالٹی اور شان و شوکت کی ایک مثال نہ ہوگا دنیا میں کوئی شخص ایسا ہو جو اُسے دیکھ کر محو حیرت نہ ہو جائے۔ شاید ہم ایسے محل کے لئے تاج محل کی مثال ہی لے سکتے ہیں جسے لوگ ونڈر آف دی ورلڈ کہتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ اس محل کی کوالٹی اور اعلیٰ میں میں کسی کو بھی شک نہ ہو گا۔دنیا کے سب بڑے شہنشاہ نے اس محل کو بنانے میں اپنی پوری دولت اور طاقت لگا دی۔ 
محل بن گیا اب اس کا خیال رکھنے اور صفائی ستھرائی کی باری آئی تو شہنشاہ بولا کہ ایسے وفادار ملازمین ڈونڈھو کہ اگر اس محل پر تیزاب کی بارش ہو تو وہ اپنے ہاتھ آگے کر دیں اور اگر کسی کونے میں آگ لگ جائے تو اپنا خون ڈال کر اُسے بجھانے سے بھی گریز نہ کریں تو بتائیے کہ ایسے لوگ شہنشاہ ڈونڈھ سکے تو کیا محل کی شان و شوکت پر دھبہ لگ سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ 
اس مثال کو اگر ہم ابھی ایک طرف رکھیں اور سوچیں کہ جب ایک لڑکا اور لڑکی خاص عمر کو پہنچتے ہیں تو کون انہیں کہتا ہے کہ ایک دوسرے کو چاہنے لگیں۔ ان کی نظر سے نظر ملنے پر دل کی دھڑکن کون تیز کر دیتا ہے یا ان کا ہاتھ ایک دوسرے کو لگنے پر ان کے جسم میں بجلی کا کرنٹ کون دوڑا دیتا ہے۔ شادی کے لطف انسان کو اتنا پاگل کر دینے والے ہیں کہ میاں بیوی کا دل اور دماغ دنیا جہان کی باتوں کو سوچنا بند کر کے کچھ اور سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ ان کے جسم کے اعضا کی حرکات ان سے بے اختیار ہو کر خود مختار ہو جاتی ہیں۔ اور ایک ایسا طوفان پیدا ہوتا ہے جو اس لطف کے جوش میں انہیں مد ہوش کر دیتا ہے۔ یہ طوفان کون برپا کرتا ہے۔ یقیناً فطرت. اسی لطف اور خوشی کی مد ہوشی میں فطرت اپنا کام کرجاتی ہے۔ بچہ پیدا کرنے کا بندو بست۔
روئی کا پودا آپ کے اور میرے کپڑوں کے لئے روئی پیدا نہیں کرتا وہ تو اپنے بیج کے لئے پانی کے ذخیرے کے لئے پیدا کرتا ہے تاکہ روئی بھیگ جائے اور اسکے بیج کو زیادہ دیر تک پانی ملتا رہے۔ ناریل کا پودا اپنے بچے کے لئے بیج کے اندر پانی اور خوراک جمع کرتا ہے۔ سیڈ فلائی میلوں ہوا کے دوش پر اپنے بیج کے لئے پانی ڈونڈھنے کے لئے اُڑتی ہے اور جہاں پانی ملتا ہے وہیں زمین پر بیٹھ جاتی ہے اور اس کا بیج اُگ جاتا ہے۔ 2009 میں سائنسدانوں کو ترکی میں چار ہزار سال پرانے بیج ملے ہیں مسور کے بیج۔ جب اُنہوں نے انہیں روشنی اور پانی کے مناسب ماحول میں رکھا تو وہ اُگ گئے انہیں پھول اور پھل لگا۔ فطرت نے ان بیجوں اتنا طاقتور بنایا کہ اُنہوں نے چار ہزار سال تک اپنے بچے کے پیدا ہونے کے لئے مناسب ماحول کا انتظار کیا۔ فیرٹ ڈیڑھ دو فٹ کا نیولے جیسا چھوٹا سا جانور ہے ۔ جب اس کا Heating Sesson آتا ہے تو مادہ میں نر سے ملن کی اتنی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ پاگل ہو کر اُس کو ڈونڈھتی ہے اور اگر اُسے نر نہ ملے تو خواہش کی شدت سے اس کی موت ہو جاتی ہے۔ یہ فطرت کیا کررہی ہے۔ فطرت نے بچہ پیدا کرنے کے لئے اپنی پوری طاقت لگا دی ہے۔ 
کینگرو کا بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اڑھائی سینٹی میٹر یعنی ایک انچ کا اور وزن میں 2 ملی گرام ہوتا ہے۔ پیدا ہونے کے بعد وہ پاؤچ کے اندر پہنچتا ہے اور دودھ پیتا ہے اسے یہ رستہ کون سمجھاتا ہے کچھ مہینوں کے بعد پاؤچ سے باہر بھی آنا شروع ہو جاتا ہے مگر رہتا پاؤچ میں ہی ہے تو اس کا ایک اور چھوٹا بچہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ بھی پاؤچ میں آجاتا ہے اس طرح اس کی پاؤچ میں بیک وقت 2 بچے رہتے ہیں۔ ایک اڑھائی سینٹی میٹر کا ایک بڑا کھیلنے والا۔ کینگرو کی پاؤچ میں چار نپل ہوتے ہیں ۔ دو آگے بڑے بچے کے لئے دو پیچھے چھوٹے بچے کے لئے دونوں کا دودھ الگ ۔
برفانی ریچھ چھ مہینے کے لئے hybernation میں چلا جاتا ہے اور چھ مہینے سوتا ہی رہتا ہے۔ اگر مادہ pregnant ہو تو Fetus کی نشوونما چھ مہینے کے لیے رک جاتی ہے اور وہ بڑھنا بند ہو جاتا ہے اور جب مادہ hybernation سے واپس آتی ہے تو وہ پھر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے بچے کا اتنا خیال کون رکھ رہا ہے اور اتنی حفاظت کون کر رہا ہے ۔ یقیناً فطرت۔
یوں سمجھئے کہ فطرت نے بچہ پیدا کرنے کے لئے ماں باپ کو رغبت دلانے اور اس کو بحفاظت پیدا کرنے کا بندوبست کرنے کے لئے ایسی طاقت لگا دی ہے کہ کوئی بچے کی ہوا کی طرف بھی نہ دیکھ سکے۔ یوں کہ بچہ فطرت نے اپنی ہی گود میں لے لیا ہے۔ مجھے بتائیے کہ شہنشاہ کہاں سے لائے گا اتنی طاقت. فطرت کے مقابلے میں بے چارہ غریب شہنشاہ اُس کے پاس تو کچھ بھی نہیں ۔ جب ہم اُس کے بنے ہوئے محل کو Wonder of the World کہیں گے تو بچے کو کیا کہیں گے۔ محل کی یہ شان و شوکت اور خوبی ہو گی کہ بچہ کی کیا شان ہوگی اور کیا خوبی ہوگی سوچیں اب بچہ پیدا ہوگیا تو فطرت نے ماں باپ کو اس کا Guardian مقرر کر دیا اور معاوضے میں ایسی خوشی اور مسرت عطا کی کہ اگر بچہ ہنسے تو ان کی دنیا کھل اُٹھے اور اگر بچہ روئے تو وہ آنسو کے دریا بہا دیں اور ان کی جان ہی نکل جائے ۔ 
اگر بچہ خدانخواستہ کنویں میں گر جائے تو ماں پیچھے ہی چھلانگ لگا دے اور اگر تیزاب کی بارش شروع ہو جائے تو ماں بچے کے اوپر ہی لپٹ کر اسے چھپا لے اور ساری بارش اپنے اوپر تب تک جھلتی رہے جب تک اسکی موت نہ ہو جائے۔ شہنشاہ کہاں سے لائے گا ایسے وفادار ملازمین جو تیزاب کی بارش کی صورت میں اپنے ہاتھ آگے کر دیں۔ مگر فطرت نے ایسے لوگ ڈونڈھ لیے ہیں۔ جو بچے پر ایک لمحے میں اپنی جان دینے سے گریز نہ کریں۔ بتائیے یہ بچہ کیسا ہو گا ۔ سوچئے! آپ کو فطرت نے کیا تحفہ دینا ہے۔ کیا یہ بچہ معمولی اور عام ہو سکتا ہے۔ پھر فطرت نے بچے کو سیکھنے کی ایسی شاندار صلاحیت دی کہ دو تین سال کی عمر میں وہ اپنے استعمال کی پوری زبان سیکھ لیتا ہے۔ چار سال کا بچہ روزانہ 437 سوال روزانہ پوچھتا ہے میں اور آپ اپنی اپنی جگہ پر اپنی اپنی سیکھ کی وجہ سے پیچھے ہوئے ہیں اور جب بچہ اتنا زیادہ سیکھنا چاہتا ہے تو کیا وہ نالائق ہو سکتا ہے۔
بچے کو فطرت نے بہت شان سے اعلیٰ ترین پیدا کیا ہے۔ وہ نالائق ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر کوئی ماں باپ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا بچہ نالائق ہے اور اپنے بچے کو لائق بناناہے تو میری صلاح یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو لائق بنائیں اور بچے کو اس ماحول میں رکھیں جو اُسے نالائق نہ کر دے.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidآپ کا بچہ نالائق نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *