احتجاج

ایک دفعہ کسی نے مجھے ایک ایسے ملک کے بارے میں بتایا جس میں کوئی لڑکا یا لڑکی اپنی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد جس بھی کمپنی میں ملازمت اختیار کر لیں اسی سے ہی ریٹائر ہوتے ہیں اور ساری زندگی اپنی کمپنی تبدیل نہیں کرتےاور نہ ہی کمپنی انہیں نکالتی ہے. اگر کوئی نوکری چھوڑدے یا نوکری سے نکال دیا جائے تو اسے دوسری جگہ نوکری بہت مشکل سے ملتی ہے.
کبھی کبھی جب بنک میں تنخواہ کی رقم زیادہ منتقل ہوئی جان کر وہ واپس کرنے کی بات کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ آپ کی تنخواہ بڑھ چکی ہے. اس بات سے ایسے لگتا ہے کہ آجر اور اجیر دونوں ہی ایک دوسرے کا کتنا خیال رکھتے ہوں گے اور اپنا اپنا کام کتنی ایمانداری سے کرتے ہوں گے. نہ ایک کو شکایت نہ دوسرے کو گلہ.
اسی ملک کے بارے میں انہوں نے ایک اور دلچسپ بات بتائی. ان صاحب کا کام مختلف فیکٹریوں کو وزٹ کرنے کا تھا. ہر فیکٹری میں انہوں نے ایک روٹین مشترک دیکھی وہ یہ کہ جب بھی کھانے کا وقت ہوتا تو ایک گھنٹی بجتی اور سب لوگ کام چھوڑ کر باہر آ جاتے, کھانے کی جگہ پر جا کر کھانا کھاتے اور وقت ختم ہونے پر پھر واپس ڈیوٹی پر چلے جاتے.
ایک دفعہ وہ ایک ایسے ہی وقت ایک فیکٹری میں موجود تھے. فیکٹری چل رہی تھی. کھانے کا وقفہ ہوا, گھنٹی بجی مگر کوئی بھی شخص کھانے کے لئیے باہر نہ نکلا. وہ بہت حیران ہوئے. کسی سے پوچھا کیا بات ہے آج کھانے کے لئیے کوئی باہر نہیں نکلا تو انہوں نے بتایا کہ ورکرز کے کچھ مطالبے ہیں جو انتظامیہ مان نہیں رہی. ورکرز نے اعلان کیا ہے کہ ہمارے مطالبات بالکل درست ہیں اگر غلط ہیں تو انتظامیہ ہمیں بتادے اور اگر درست ہیں تو مان لے. اگر انتظامیہ کو ہمارے کام پر شک ہے تو ہم دوپہر کا کھانا نہیں کھائیں گے بلکہ کھانے کے وقفے کے دوران بھی کام ہی کئیے جائیں گے. اور کھانے کے وقفوں میں احتجاجََ کام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کر لئیے جاتے.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidاحتجاج

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *