یہ استاد ہونے کا رتبہ ہے

اُسے بچوں کے ساتھ کھیلنا بہت اچھا لگتا تھا. بچوں کو کہانیاں سناتی تھی. اُن کو لطیفے سناتی تھی کبھی اُن سے تصویریں بنواتی تھی. کبھی وہ ایک دوسرے کو پہیلیاں سناتے اور بُوجھتے. اُس کی کلاس میں بڑی رونق ہوتی تھی. بچے اُس کے پیریڈ کا انتظار کرتے رہتے تھے اور اگر کبھی کسی بچے کو بخار ہو جاتا تو بھی وہ ماں باپ سے اُسی کی وجہ سے اسکول جانے کی ضد کرتا. اُس کی جان بچوں میں اور بچوں کی جان اُس میں تھی. وہ محلے کے ایک اسکول میں ٹیچر تھی .
اُس کے خاوند کا اپنا کام تھا. وہ ٹھیکیداری کرتا تھا اور بہت اچھے پیسے کماتا تھا . اُسے اُس کا اسکول میں پڑھانا پسند نہیں تھا کیونکہ اُسے اپنی کمائی پر بہت گھمنڈ تھا.
اُس کی ساس بھی اُسی کے گھر میں رہتی تھی. چُپ چُپ سی خاموش مگر جب بولتی تو بہت سمجھداری کی بات کرتی تھی.
آج صبح گھر سے نکلتے وقت اُس کے خاوند نے اُسے اس کی آمدن بتا کر اس کو نوکر کا طعنہ دے کر روکا ا تو اُس کے آنسو نکل پڑے . اُن کا بیٹا بھی پریشان ہو کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا.
اتنے میں اُس کی ساس آگے بڑھی اور اُس کے آنسوؤں کو پُونجھتے ہُوے بولی.
بیٹا تمہیں پتا ہے کہ سب بچے ماں باپ کی وساطت سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور انہی کی زریعے اس دنیا میں آتے ہیں. وہ ان کی پرورش کے لیے وہ اپنی جان تک بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں مگر آج تک تم نے سنا کہ کبھی کسی ماں باپ نے اپنے بچوں کو اپنا غلام کہا ہو یا ان کے بچوں نے کبھی اپنے آپ کو اُن کا غلام سمجھا ہو. حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک قول بہت مشہور ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جس نے انہیں ایک لفظ بھی سکھایا وہ اُس کے غلام ہیں. حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کہا کہ وہ اپنے استاد کے غلام ہیں. یہ استاد ہونے کا رتبہ ہے بیٹا جو تمہارا نصیب ہے پھر اُس سے بات کرتے کرتے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور بولی کہ اِسی رتبے کی وجہ اِس بے وقوف کو معاف کر دے بیٹا. اِس ٹھیکیدار کو اِس بات کی سمجھ نہیں ہے کہ استاد کیا ہوتا ہے. اور اپنی آنکھوں کے آنسو چھپاتی ہوئی دوسرے کمرے میں چلی گئی.
اگلے دن اُس نے دیکھا کہ اُس کا بیٹا خود اُسے اسکول چھوڑنے کے لیے اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidیہ استاد ہونے کا رتبہ ہے