الفاظ ہمیشہ احساسات اور جزبات سے پیچھے ہی رہیں گے

کسی اپنے کے مچھلی اور کھانے کی دوسری چیزیں بھیجنے پر

مچھلی تو زندگی میں کئی دفعہ کھائی مگر آپ کی بھیجی ہوئی مچھلی تو بہت ہی کمال کی تھی۔ نہ ایسی مچھلی کبھی دیکھی نہ کبھی کھائی۔ مجھے یہ بتانے کے لیے کہ مچھلی آ گئی ہے، سب سے پہلے تو خوش بُو آئی وہ خود ہی اتنی پیاری تھی کہ دل و دماغ پر چھا گئی۔ میں نے سوچا کہ جو خوش بُو اتنی پیاری ہے تو مچھلی کیسی ہو گی

خوش بُو کے پیچھے پیچھے آپ کے ڈرائیور صاحب ایک بڑا سا دیگچا اٹھائے ہوئے اندر آ گئے۔ دیگچے کو دیکھ کر سب سے پہلا لفظ منہ سے نکلا ہو تھا اُف! یا الہی یہ کتنے لوگوں کا کھانا ہے خیر دیگچا رکھا اور چلے گئے ابھی اُس دیگچے کا سحر میرے طاری ہو ہی رہا تھا کہ وہ پھر آ گئے اب ہاٹ پاٹ ہاتھوں میں پکڑا ہوا اس طرح بار بار آتے رہے اور پتا نہیں کیا کیا رکھتے رہے۔ خیر ساری میز بھر کر چلے گئے۔ مجھے حیران چھوڑ کر۔ اور ہر طرف آپ کے بھیجے ہوئے کھانوں کی خوش بُو پھیلا کر۔

اب میں سب کچھ گاڑی میں رکھ کر گھر لے آیا۔ پھر ڈھکن اٹھا کر جو دیکھا تو اتنی پیاری رنگت اور ایسی مہک کہ منہ کا پانی تو رکنے کا نام نہ لے پھر جو چکھا تو اس قدر لزیز، کیا بتاؤں! زبان تو حیران ہی ہو گئی۔ اُس نے اِس قسم ذائقہ کبھی چکھا ہی نہیں تھا ۔ شاید وہ اس دنیا کا تھا ہی نہیں۔ اگر ہوتا تو زندگی میں کبھی تو چکھا ہوتا۔

لطف کی بات یہ ہے کہ اُس میں صرف ذائقہ ہی نہیں تھا بلکہ اُسے کھاتے ہی جو تروتازگی اور شگفتگی کا احساس ہوا وہ کمال تھا۔

یہ مچھلی کھاتے کھاتے گرم گرم فرائی مچھلی آ گئی۔ اصل امتحان تو اب شروع ہوا وہ یہ کہ اُسے چکھنے کے بعد یہ نہیں سمجھ آتا تھا کہ شوربے والی مچھلی ہی کھاتے رہیں یا فرائی۔ میں نے بھی اس کا ایک حل نکال لیا۔ ایک نوالہ شوربے والی پلیٹ سے اور ساتھ ساتھ فرائی مچھلی۔

سارا گھر کھا رہا تھا۔ اتنے میں کچھ مہمان آ گئے انہوں نے کھایا۔ اُن کے پاس ایک بلی تھی اصل میں وہ ہمیں بلی دکھانے ہی آئے تھے بلی تو مچھلی کی خوش بُو سونگھ کر دیوانی ہو گی۔ اُس نے بھی کھایا۔

امی کی طرف بھیجا۔ بہن کی طرف بھیجا۔ یوں لگتا تھا کل جہان کھا رہا تھا۔ بس آج ہر طرف کھانا ہی کھانا تھا۔

روٹیاں ایسی کمال پتا نہیں کون کون سا اناج اُن میں تھا۔ اتنی خستہ کہ نوالہ منہ میں جاتے ہی گُھل جائے۔

اب آپ ہی بتائیے کہ اتنا شان دار کھانا سامنے پڑا ہو تو ہاتھ بھلا کیسے رکے۔ جب پیٹ بھر گیا تو ہاتھ پھر بھی نہ رکا۔ مگر آخرکار تو رکنا تھا اور اُس کے بعد ایک اور امتحان یہ کہ میٹھا کی جگہ کیسے بنائیں۔ جب کوئی حل سمجھ نہ آیا تو سوچا میٹھے سے ہی پوچھ لیں۔ پوچھا تو بولے کہ تم پلیٹ میں ڈالو جگہ ہم خود بنائیں گے۔

ہر دفعہ عید پر سوچتے ہیں کہ ایسی کیا چیز بنائیں جو اتنی لزیز ہو۔ سب کچھ تو کھایا ہوا ہوتا ہے۔ کاش آج عید ہوتی تو اُسے بتاتے کہ دیکھو یہ ہوتی ہے لزت! پھر اُسے پوچھتے کہ اب بتاؤ اس سے پہلے جانتی ہو اس ذائقے کو؟ تو یقینا” وہ جواب دیتی کہ اتنی محبت سے آج تک کوئی کھانا بنا جو نہیں۔ کہتے ہیں جنت میں جو کوئی جس درجے میں بھی ہوگا وہ سمجھے گا کہ وہ سب سے اونچے درجے میں ہے۔ مجھے لگتا ہے یہی حال محبت کے درجوں کا ہے۔

اردو اتنی شان دار زبان ہے مگر “شکریہ” کے لیے اردو اتنی شان دار زبان ہے مگر “شکریہ” کے لیے کوئی اس سے بڑا لفظ نہیں ملتا۔ ہر چیز کے لیے بس “شکریہ” تو کوئی خاص شکریہ ادا کرنا ہو تو کیسے کریں “بہت زیادہ شکریہ” کہہ دیں۔ بات بنتی نہیں۔ ایسے موقعوں پر لگتا ہے کہ الفاظ کا احساسات اور جزبات کے ساتھ کبھی میل نہ ہو سکے گا۔ الفاظ ہمیشہ پیچھے ہی رہیں گے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidالفاظ ہمیشہ احساسات اور جزبات سے پیچھے ہی رہیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *