ایک دوست کی بیمار پُرسی پر

اللہ تعالیٰ اپنے کسی بھی بندے کوکوئی ایسی تکلیف نہیں دیتا جِسے وہ سہہ نہ سکے یا برداشت نہ کر سکے۔ وہ تو اُس کا صبر دیکھنا چاہتا ہے اور اپنے اوپر اُس کا ایمان مضبوط کرنا چاہتا ہے.

اِس دوران وہ اپنی رحمت کا سایہ اُس کے سَر پر چاروں طرف پھیلا دیتا ہے۔ انسانوں کے روپ میں فرشتوں کو بھیج دیتا ہے جو اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اُس طرف لے جاتے ہیں جہاں اُس کی رحمت برس رہی ہوتی ہے۔ جہاں شفا اُس کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔

جہاں اُس کے اپنے جھولیاں بھر بھر کر اُس کو دعائیں دے رہے ہوتے ہیں۔ پھر وہ خود وہاں آ جاتا ہے۔ اُن دعاؤں کو قبول کرنے کے لیے، اُس کو صبر دینے کے لیے، اپنے اوپر اُس کا ایمان مضبوط کرنے کے لیے، اُسے شفا دینے کے لیے اوراُسے بچا لینے کے لیے،

یہ سب کچھ وہ کرتا ہے اُس سے بہت بہتر کام لینے کے لیے خیر بانٹنے کا۔

آپ کے لیے میری بہت دعائیں ، بے حد دعائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidایک دوست کی بیمار پُرسی پر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *