بچوں پر اللہ کی رحمت

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں بے شمار خزانے، بڑے بڑے راز اور بے پناہ طاقتیں چھپا دی ہیں یہ سب خزانے اُس نے چھپائے ہیں جھُوٹ سے، بے ایمانی سے، لالچ سے، جہالت سے، نفرت سے، کاہلی سے اور اُن سب چیزوں سے جو اِس دنیا اور کائنات کو خراب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے بچے کو پاک پیدا کر کے وہ صلاحیتیں دیتا ہے جن سے وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ وہ سب خزانے آسانی سے ڈھونڈ سکے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم کوئی چیز کسی جگہ پر چھپا کر کسی اپنے کو ہی اُس جگہ کا اشارہ دے دیں اور وہ جھٹ سے ڈھونڈ کر لے آئے۔ سوچیں اللہ تعالیٰ کتنا کامیاب دیکھنا چاہتا ہو گا بچوں کو، وہ کتنا پیار کرتا ہو گا بچوں سے، ہمیں تو اس بات کا اندازہ بھی نہیں۔

بچے کو اُس نے پاک، سچا، ایمان دار، روشن خیال، محبت کرنے والا اور چُست پیدا کیا ہے کہ چ یہ ہے کہ اگر بچہ خدانخواستہ حرام سے پیدا ہوا ہو تو بھی اُس کی پاکیزگی، سچائی اور ایمان داری پر کوئی شک نہ ہوگا اور اُس کی صلاحیتیں کسی طرح بھی کم نہ ہوں گی اور اُسے وہ خزانے تلاش کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے گی۔

مگر جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو یہ دنیا اُسے جھُوٹ، بے ایمانی اور لالچ سکھاتی ہے۔ اُسے محبت سے اُسے دور کرتی ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ قدم قدم پر اُس کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ وہ تو اُسے اپنے جیسا بنانے کے لیے اپنا پورا زور لگا دیتی ہے اور اکثر اوقات اُس میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔

پھر بچہ قابلیت کے اُس معیار تک پہنچ ہی نہیں سکتا جو اُن خزانوں کو پا نے کے لیے چاہیے۔ اُس میں تو وہ چیزیں آ جاتی ہیں جو اُن خزانوں کو پا لینے سے روکتی ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ یہ ہے ہی نا لائق۔ پیدائشی نالائق۔

مجھے تو نا لائق اور پیدائشی نالائق جیسا لفظ کہتے اور لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے اور یہ بھی لگتا ہے کہ ہم ایسا کہہ کر اللہ تعالیٰ کی اُس رحمت پر شک کرتے ہیں جو اُس نے بچے پر کی ہے اور اُس بے پناہ محبت پر بھی جو وہ بچے سے کرتا ہے، اس دنیا میں پیدا ہونے والے ہر بچے سے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidبچوں پر اللہ کی رحمت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *