بچوں کے سمجھنے، سیکھنے اور کام کرنے کا خودکار سسٹم

بچے خود اپنے شوق سے سیکھنے اور کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ بے انتہا کوشش کرتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ فطرت نے بچوں کے دماغ میں ایک ایسا سسٹم لگا دیا ہے جو دل سے انسپریشن لیتا ہے اور جس کے ذریعے وہ بات اور کام کو سمجھتے ہیں اور پھر انہیں جو کام اچھا لگتا ہے وہ اُسے کرنے کے لیے اپنا پورا دماغ ساری طاقت لگا دیتے ہیں۔ جب ہم اُنہیں اپنے سسٹم یعنی زبردستی کے طریقہ سے ان کی پسند کے خلاف یا انہیں سمجھائے بغیر کام کروانے کی کوشش کرتے ہیں تو اصل میں ہم اُن کے خودکار اور فطرتی سسٹم کے خلاف جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ مسلسل زبردستی کرنے سے اس کا فطرتی اور خود کار سسٹم کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور پھر بچے ہمارے زبردستی سے کام کروانے والے سسٹم پر ہی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم جتنا زبردستی کرنے کا لیول بڑھاتے جائیں گے بچے اپنے آپ کو اُسی پر ٹیون کرتے جائیں گے اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ زبردستی کے اُس لیول سے نیچے کام ہی نہیں کریں گے۔ ایسے سسٹم میں تربیت یافتہ لوگوں سے کام لیتے وقت کام لینے والوں کو اُن کے زبردستی کے لیول کو تک پہنچنا پڑتا ہے۔ کئی لوگوں کا ورکنگ لیول اتنا سخت ہوتا ہے کہ کام لینے والے ان پر پریشر ڈالتے وقت خود ہی غصے میں آجاتے ہیں یا پھر اُن کو چھوڑ دیتے ہیں جب سوسائٹی میں بہت سے اچھے لوگ اُن کو چھوڑ دیں گے تو پھر انہیں اپنے ہی لیول کے لوگوں کے درمیان رہنا پڑے گا۔ چونکہ وہ پھر آسانی سے کام کرنے والے لوگوں کے درمیان رہتے ہی نہیں اس لئے انہیں کام نہیں ملتا اور اُنہیں سمجھ بھی نہیں آتا کہ اُن کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ 
اسے سمجھنے کے لیے ہم ایک ایسے جینریٹر کی مثال لے سکتے ہیں جس کو زنگ لگا کر یا خراب کر کے سخت کر دیا گیا ہو۔ اُسے چلانے کے لئے طاقت اور زور زیادہ لگانا پڑے گا اور اس سے بجلی کم پیدا ہو‫. سمجھدار لوگ زیادہ طاقت لگا کر کم فائدہ نہیں لینا چاہتے اس لئے اسے ہٹا دیتے ہے اور جو کم طاقت لگانے سے زیادہ فائدہ دیتا ہے سب لوگ اسی سے کام لینا چاہتے ہیں انہی جیسوں کو ڈھونڈتے ہیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidبچوں کے سمجھنے، سیکھنے اور کام کرنے کا خودکار سسٹم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *