ماں باپ کے ساتھی

میرا خیال ہے کہ بچوں کو اُن کے دو ماں باپ ہی نہیں پالتے بلکہ چار لوگ پالتے ہیں. دو ماں باپ اور دو اُن کے ساتھی . ایک ماں کی ساتھی اور ایک باپ کا ساتھی.
یوں سمجھیں کہ ایک بچہ اسلم کسی گھر میں پیدا ہُوا اور ایک بچی لیلیٰ کسی اور گھر میں پیدا ہوئی. اُن دونوں کی پرورش علیحدہ علیحدہ جگہوں پر ہُوئی. زمانے نے اُنہیں سچ, جھوٹ, ایمان داری, بے ایمانی, غصہ, ناراضی, معافی سب کچھ سکھانے کی کوشش کی. جِس کی وجہ سے اِن کے روّیے بن گئے. یہ دونوں بڑے ہو گئے اور دونوں کی شادی طے ہو گئی.
شادی سے پہلے جب لیلیٰ کچن میں کاکروچ کو دیکھتی تھی تو چیخ مار کر دوڑتی تھی جو اکثر لڑکیاں کرتی ہیں. شادی کے بعد جب یہ ماں بن گئی تو اِس کے بچے کے پاس خدا نخواستہ سانپ بھی آ جائے تو سوچیں کہ وہ اُس کے ساتھ کیا سلُوک کرے گی. وہ جھپٹ پڑے گی اور اُسے مار کر ہی دَم لے گی. یہ لیلیٰ نہیں ہے یہ ماں ہے. لیلیٰ کے روّیے الگ ہیں اور ماں کے روّیے الگ ہیں. جب آپ مختلف لڑکیوں کے روّیوں پر غور کریں گے تو سب کے روّیے مختلف ہوں گے جب سب ماؤں کے روّیے اِن کے بچوں کے بارے میں دیکھیں گے تو ایک ہی ہوں گے. ان ماؤں کے علاوہ جب چڑیا, بلی کوئی بھی جانور حتّی کہ سب سے بے وقوف سمجھا جانے والا مادہ گدھا بھی جب ماں ہوگی تو اُس کا روّیہ بھی ویسا ہی ہوگا. اسی طرح اسلم اور باپ کا روّیہ بھی بچے کے بارے میں مختلف ہے.
بچے کے ساتھ سلُوک لیلیٰ کا اور ہے اور ماں کا اور. لیلیٰ کا سلُوک اپنی تربیت کے مطابق ہے اور ماں کا اپنے فیچرز کے مطابق. ماں اصل میں فطرت ہے جو لیلیٰ اور اسلم کو اپنا بچہ پیدا کرنے کے لئیے چُن لیتی ہے . یہ اُن کی سوچ کو ختم کرتی ہے اور انہیں اپنی سوچ دیتی ہے اور اُن کے جسم سے اپنے بچے کو پیدا کرنے اور اُن سے اُسے سنبھالنے کا کام لیتی ہے ماں سے ذیادہ طاقتور اِس دنیا میں کوئی بھی نہیں مگر بچے کے ساتھ اُسے پیار کے علاوہ کچھ بھی نہیں آتا. “اللہ تعالیٰ انسان سے ستّر ماؤں کے برابر پیار کرتا ہے” مجھے یہاں سے سمجھ آیا. فطرت اللہ تعالیٰ کا ہی نظام ہے. پِھر جب کوئی بچہ فوت ہو جائے تو ہم یہ بھی تو کہتے ہیں “جِس کی امانت تھی وہ لِے گیا” ہمارے بچے بلا شبہ فطرت کے بچے ہیں.
دنیا میں ہر بچے کی مختلف تربیت کی وجہ ماں اور باپ کا روّیہ نہیں بلکہ اُن لڑکیوں اور لڑکوں کا روّیہ ہے جنہیں ماں اور باپ نے جنہیں اپنا ساتھی بنایا. بلکہ ہمارا اپنا روّیہ ہے جنہوں نے مختلف ماحول میں تربیت پائی. دنیا کی سب سے بڑی رحمتوں میں سے ایک ماں اور باپ کا ہمیں اپنا ساتھی چُن لینا ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں اُن کا ساتھ نبھانے کی تو فیق عطا فرمائے اور ہمیں ہمارے بچوں کے لئیے باعثِ رحمت بنائے.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidماں باپ کے ساتھی