بہت دیر تک روتے رہے

میرے ایک دوست ایک کمپنی میں بہت اچھی پوزیشن میں کام کرتے تھے. بہت لائق انسان ہیں. کمپنی میں آپس کی سیاست کا دباؤ ایسا آیا کہ وہاں کام کرنا ناگزیر ہو گیا. انہوں نے نوکری تو چھوڑی ہی مگر ساتھ ہی اپنے آپ سے وعدہ بھی کر لیا کہ آئندہ کبھی نوکری نہیں کریں گے.
چنانچہ ایک پلازہ کی سب سے آخری سیڑھیوں والی آدھی دکان لے کر اُس میں سی سی ٹی وی کا کام شروع کر دیا. دکان تو برائے نام ہی تھی. کام باہر سے ہی لانا پڑتا تھا. ویسے بھی نیا کاروبار چلنے میں وقت لگتا ہے اور جب سرمائے کی کمی ہو تو یہ وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے.
ان کا کچھ مہینوں کا ایک بچہ تھا اور ان کی بیوی پھر امید سے تھیں. پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کے گھر دو جُڑواں بچے پیدا کر دیے. اب اُن کے گھر تین دودھ پیتے بچے تھے. ایک سال بھر کا اور دو نو مولود.
وہ کہتے ہیں کہ ایک دن صبح جب وہ کام کے لیے گھر سے نکلنے لگے اور اُن کی بیوی انہیں دروازے تک چھوڑنے کے لیے آئی تو بولی کہ بچوں کے لیے دودھ نہیں ہے. تو میں نے پوچھا کہ بالکل ہی نہیں ہے تو بولی کہ تھوڑا سا ہے. تو میں نے کہا کہ اُس میں سے تھوڑا سا دودھ لے کر اُس میں کھانے کی کوئی ٹھوس چیز ملا کر بڑے بچے کو دے دو. اور باقی میں پانی ملا کر چھوٹے بچوں کو پلا دو. اللہ تعالیٰ کوئی سبب لگائے گا.
وہ کہتے ہیں کہ اُس دن اُنہیں کام کی کوئی بھی صورت نظر نہیں آ رہی تھی اور اس سے ذیادہ بے بسی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی. بس کسی نے اپنے ایک دوست کا کارڈ دیا تھا کہ اُن سے پوچھ لیں اگر انہیں کوئی ضرورت ہو تو. یہ ایک فیکٹری کے مالک کا کارڈ تھا. فیکٹری کافی دور تھی اور ان کے پاس وہاں جانے کے لیے بس کا پورا کرایہ بھی نہیں تھا. کافی دور تک تو پیدل ہی گئے پھر بس پر بیٹھ کر فیکٹری پہنچے. کارڈ بھجوایا تو ان صاحب نے بلوا لیا. وہ پہلے ہی اپنے کسی دوست کے ساتھ بات کر رہے تھے. اور اِن کی طرف توجہ کیے بغیر اپنی بات جاری رکھی. یہ کہتے ہیں کہ میں اِس دوران کیمرہ اور اس کی چیزیں جوڑ کر تیار کرتا رہا. کافی دیر کے بعد جب انہیں خیال آیا تو چونک کر معزرت کرتے ہوے بولے سوری آپ بتائیں. میں نے بتایا کی میں سی سی ٹی وی لگاتا ہوں. وہ بولے مگر ہمیں تو اس کی ضرورت نہیں ہے. یہ سنتے ہی میں نے اُن کی بات کو پلٹتے ہوئے کہا آپ کے یہاں بجلی کی کوئی ساکٹ ہے وہ بولے ہاں یہ. اور میں نے اُس ساکٹ میں کیمرے کا شُو لگا کر کیمرے کا رخ باہر کی طرف کر دیا. چھوٹی سی سکرین ان کے سامنے تھی. دیکھتے ہی بولے یہ اسلم یہاں کیا کر رہا ہے. اُسے بلایا اور کچھ پوُچھ گِچھ کے بعد واپس بھیج دیا پھر بولے یہ کیمرہ مجھے میرا گودام دکھا سکتا ہے. میں نے کہا کیوں نہیں. پھر میں نے ان کے ایک ملازم کی مدد سے انہیں اُن کا گودام دکھایا. جب واپس آیا تو بولے ایک کیمرہ کتنے میں لگے گا. پچیس ہزار قیمت ہے آپ کے لیے بائیس ہزار میں ہوگا. اور کتنے دن میں لگے گا میں نے جواب دیا, کل. بولے لگا دیں تو میں نے کہا ایک ہزار ایڈوانس دے دیں. جو انہوں نے اُسی وقت دے دئے. جب میں واپس گھر آیا تو میرے پاس بچوں کا دودھ اور کھانے پینے کی بہت سی چیزیں تھیں. جنہیں دیکھ کر میری بیوی رونا شروع ہو گئی اور میرے بھی آنسو نکل آئے پھر ہم دونوں بچوں کو دودھ بنا کر پلاتے رہے اور بہت دیر تک روتے رہے. اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہے.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidبہت دیر تک روتے رہے