بیٹی کے گھر سے فادرز ڈے پر محبت بھرا کھانا آنے پر

دروازے کی گھنٹی بجی۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ کون ہو گا کہ کھانوں کی خوشبو اندر آگئی اور سارے گھر میں چھا گئی۔ اُس نے تو دھوم مچادی تھی کہ میں کسی اپنے کی طرف سے آئی ہوں۔

یوں لگتا تھا کہ یہ گھنٹی کھانے نے ہی بجائی تھی۔ وہ اندر آنے کے لیے اتنا بے تاب تھا کہ اُس نے بغیر انتظار کیے خوشبو کو اندر بھیج دیا۔

خوشبو کا جادو تھا یا جادو کی خوشبو، کچھ کہہ نہیں سکتے مگر اُس نے سب پر اپنا سحر طاری کر دیا۔

اِس سے پہلے کہ کوئی باہر دیکھنے کے لیے بھاگے ، خوشبو نے پہلے ہی بتا دیا کہ کوئی ہے میرا جو مجھے یاد کرتا ہے اور اپنے پیار سے میرا دل آباد کرتا ہے۔ وہ کوئی ایک نہیں پورے کا پورا گھر ہے۔

مجھے لگا آج صرف بچوں کے لیے فادرز ڈے نہیں کسی بہن کے لیے بردرز ڈے بھی ہے اور بھائی کے لیے بھی۔ چھوٹے بچوں کے لیے گرینڈ فادرز ڈے بھی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اِس گھر کی ہواؤں ، فضاؤں ، پرندوں اور پودوں نے بھی اپنی محبت کے اظہار سے پیار کے ڈے کا پیغام بھیجا ہے۔

مجھے تو یہ بھی لگتا ہے کہ اِس گھر کے لیموں نے بھی آج اپنی زندگی کا بہترین رس اِس کھانے کے لیے دے دیا ہوگا دھنیے نے بھی اپنی خوشبو کا کمال دکھا دیا ہوگا۔ ہوائیں جھوم اُٹھی ہوں گی فضائیں خوش گوار ہو گئی ہوں گی پرندے چہک رہے ہوں گے اور پھول مہک رہے ہوں گے۔

کھانا جو اندر آیا تو آتا ہی گیا۔ ایک ڈِش ، دوسری ڈِش پھر ڈِش پہ ڈِش۔ کہیں محبت والی بریانی ، کہیں پیار بھرے کٹلس کباب ، کہیں چاہ والے کپ کیک وہ بھی طرح طرح کے اور یہ کیا مسکراہٹ اور شادابی والا سلاد! واہ واہ۔ اور میٹھے کی ڈِش ، چاہت اور الفت سے تہہ در تہہ بھری ہوئی ، لبالب ، ڈِش کے کناروں تک اور لذت اور سرور کے نظاروں تک۔

کھانے کھولے تو رنگوں کی برسات تھی اور ذائقوں کی بہتات۔ سب کے سب دیدہ زیب اور دل فریب۔ دیکھیں تو آنکھیں حیران ، چکھیں تو زباں مہربان اور کھائیں تو پیٹ قدر دان۔

کھانے بتاتے ہیں کہ اُن کو بنانے کا خیال آنے سے لے کر پہنچانے تک کی ہر سوچ ، ہر گمان ، ہر مشورہ ، ہر بات ، ہر ہاتھ ، ہر ساتھ ، ہر خوشی ، ہر چہک اور ہر مہک اپنےکمال پر تھی۔

اگر ساری زبانوں کے الفاظ بھی ملا لیے جائیں تو وہ اُن جزبات کا اظہار کبھی نہ کر سکیں گے جو دلوں کو دلوں کے ساتھ اور گھروں کو گھروں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

بات “شکریہ” سے کہیں آگے ہے اور جزبات ہمیشہ ہی الفاظ سے آگے رہیں گے۔

اِس گھر کے سب افراد میری بہن میرے بھائی میرے بچوں میرے گرینڈ چلڈرن، گھر کے دیگر افراد کو میرا سلام و پیار۔

اِن کے علاوہ اِس گھر کی جھومتی ہواؤں ، مہکتی فضاؤں ، چہکتے پرندوں ، سر سبز و شاداب پودوں ، شوخ پھولوں ، سُرخ و سفید کلیوں اور نو خیز کونپلوں کو پیار۔

جس اسٹور سے سامان لائے تھے اُس کو بھی میرا سلام۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidبیٹی کے گھر سے فادرز ڈے پر محبت بھرا کھانا آنے پر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *