تم نہ جانے کون ہو

یہ ایک نظم ہے اور ایسی نظم جس کی وجہ سے میں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ بولا۔
ہوا یوں کہ ایک رات میں نے یہ نظم لکھی، صبح نُور کے تڑکے مکمل ہوئی۔ اب ساڑھے تین بجے صبح، کئی لوگ تو اُس وقت کو رات ہی سمجھتے ہیں، انسان کس کو سنائے۔ سنانا بہت ضروری ہے کیوں کہ نظم یا شعر آزاد پیدا ہوتے ہیں، قید نہیں کیے جا سکتے۔خوش بُو کی طرح، جسے پھول سے نکلنے کے بعد پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پتھر پر پڑے اُس بیج کی طرح، جسے نمی ملنے کے بعد پھوٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اسی طرح شعر بھی “ہونے” کے بعد ایک ایسا انسان ڈھونڈ کر ہی رہتے ہیں جو پہلے اُن کو سُنے پھر اُن کی سُنے۔ اگر با ذوق مل جائے تو خود شعر کے پیچھے پیچھے شاعر تک پہنچ جاتا ہے جیسے خوش بُو کے پیچھے بھنورا پھول تک، دیوانہ وار! اگر کوئی اور ملے تو شاعروں کے لطیفوں میں ایک کا اضافہ! یہ اضافہ عقل والے لوگ کرتے ہیں جن کا عشق اور دیوانگی کے ساتھ شاید کوئی تعلق نہیں ہوتا!

اب آپ ہی بتائیے کہ اگر آپ کو ساڑھے تین بجے صبح ، صبح نہ کہیے، اب رات ہی کہیے، آپ کا ہی کوئی چاہنے والا آپ کے گھر کی گھنٹی بجا دے اور کہے کہ اٹھو اور اٹھ کر میرے شعر سنو تو پھر آپ کیا کریں گے۔ میرے خیال میں آپ اپنے گھر کے سامنے وہیں، اُسی وقت مشاعرہ شروع کر دیں گے ۔ جو آہستہ آہستہ گرم ہوتا جائے گا۔ مگر اس میں شاعر آپ ہوں گے اور بے چارے شاعر صاحب سامع! اور اڑوس پڑوس کے لوگ بن بلائے ہی آ جائیں گے، داد دینے کے لیے، وہ بھی لاٹھیوں کے ساتھ۔ مجھے تو ایسا سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔

سو! پھر اُس وقت شعر سننے والا صرف ایک ہی شخص بچتا ہے جس کا نام ہے “شاعر کی بیوی”۔

اب میں آپ کو اپنے گھر کی بات بتانے لگا ہوں! میری بیگم بہت وفادار، باشعار اور خدمت گزار ہیں۔ مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں۔ قدم قدم پر قدم بوسی کے لیے تیار رہتی ہیں۔ مگر میرے شعروں کی وجہ سے اب وہ اپنے سرہانے بیلن رکھ کر سوتی ہیں۔ اسی وجہ سے اتنے پیار کے باوجود کئی دفعہ وہ خُلع لینے تک پہنچ گئیں۔ میں جانتا ہوں کہ مجھے ایسی بیوی دوبارہ نہیں مل سکتی۔ اس لیے میں بڑی احتیاط برتنا ہوں مگر پھر بھی کئی دفعہ رِسک لے ہی لیتا ہوں۔ جی شعر تو ہر صورت سنانے ہی ہوتے ہیں، ہو جو گئے۔

اُس صبح میں نے بیگم کو شعر سنانے کا ایک طریقہ سوچا۔ میں نے جھوٹ موٹ آنکھیں موند لیں اور سوئے سوئے بند آنکھوں کے ساتھ آہستہ سے کہا “سُنو!”
وہ مشرقی بیوی بس اتنی سی آواز پر وہ جھٹ سے جاگ گئیں، کہنے لگیں “پانی لاؤں”
میں نے کہا “نہیں”
تھوڑا سا میری طرف سِرکتے ہوئے بولیں “ٹھنڈ لگی ہے؟”
میں نے کہا “نہیں’
کہنے لگیں “پھر؟”
میرے جواب دینے سے پہلے ہی گویا ہوئیں “بتائیں؟ کوئی خدمت!”
میں نے کہا “خواب آیا ہے”
کہنے لگیں “خیر کا ہے؟”
میں نے کہا “ہاں! بہت سہانا، تمہارے متعلق!”
چاق و چوبند ہو کر بیٹھ گئیں اور بولیں “سنائیں”

(ایسی بیوی کے ساتھ ایسا جھوٹ! اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے)

میں نے کہا “تم اور میں باغ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں، پرندے چہچہا رہے ہیں۔ ہلکی ہلکی بارش کے آثار ہیں۔ اور میں تم پر نظم لکھ رہا ہوں لا جواب سی، بہت ہی کمال کی”۔
بہت خوش ہوئیں اور بولیں “کچھ یاد ہے؟ کیا لکھا تھا!”
میں نے “ہاں! کچھ کچھ”۔
کہنے لگیں “سنائیں”
تو میں نے اپنی نظم سنانی شروع کی. بہت شوق سے سنتی رہیں مگر چار شعر سنانے کے بعد اگلے شعر میں بھول گیا
وہ بولیں “کچھ یاد کریں”
اب مجھے یاد نہیں آ رہے تھے۔
پھر بہت پیار سے بولیں “ذہن پر زور دیں! آگے کیا تھا”۔
اب چونکہ میں بھی سنانے کے لیے بے تاب تھا۔ سارا ڈراما اسی کے لیے تو رچایا تھا۔ میرا ہاتھ بے اختیار سیدھا موبائیل پر گیا کیونکہ میں اُسی میں لکھتا ہوں۔ موبائیل پر ہاتھ جاتا دیکھ کر اچانک وہ سیخ پا ہو گئیں اور اُن کا ہاتھ سیدھا سرہانے پڑے بیلن پر۔۔۔ نہیں! اس سے آگے کی رُو داد مجھے آپ کو نہیں سنانی ۔ وہ رُو داد میری کہنہ مشق بیوی کی میرے شعروں کے ساتھ فراوانیِ محبت کی وہ چھلک ہے جس کے اثرات اکثر اوقات دیر پا اور سلسلے بعض اوقات دراز ہو جاتے ہیں۔ بس میری آپ بیتی ہے اور انہی شعروں کے ساتھ میرے راز و نیاز۔

مجھے لگتا ہے کہ میری بیگم کو بھی پورا یقین تھا کہ میں جاگتے ہوئے اور اپنے ہوش حواس میں اُن کے متعلق کبھی ایسے شعر نہیں کہہ سکتا۔
اُن اشعار میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔

تم نہ جانے کون ہو میں سوچتا ہوں بار ہا
کہہ رہا ہے دل ہے میرا کوئی معجزہ ہو پیار کا

تم اوس ہو بہار کی چمک اُٹھے جو پھول پر
بھنورا ہو کوئی کلی کو چوم لے جو بُھول کر

چشم نم سے دیکھتی نگاہ ہو بے قرار سی
دل کے ساز چھیڑ دے جھلک ہو وہ پیار کی

کلی ہو گلاب کی، گیت جو گائے جھوم کر
دل کی وہ آواز ہو، لوٹ جو آئے گھوم کر

نیم خواب سی آنکھ میں وجہ ہو خمار کی
خوش بُو ہو بہار کی، شفا ہو تم بیمار کی

دن ہو کوئی کِھلا کِھلا یا پھر بھیگی رات ہو
پہیلی ہو پریم کی یا پریت کی کوئی بات ہو

رنگوں کی بارات ہو یا حُسن کی برسات ہو
خدا کا کوئی تحفہ ہو یا جنت کی سوغات ہو

صبح صبح کا نور ہو یا نور کا ظہور ہو
آواز ہو تم عرش کی یا تم کوہ طور ہو

بچے کا کھلونا ہو یا قدرت کا کوئی کھیل ہو
ہار ہو یا جیت ہو یا آگ پانی کا میل ہو

گیت ہو کوئی بلبل کا یا کوئل کی کوئی کُوک ہو
نغمہ ہو دل سوز کوئی یا گہری سانس کی ہُوک ہو

حسن کا خمار ہو یا عشق کی دعوے دار ہو
دھکتی ہوئی کوئی نار ہو یا برف کی پرستار ہو

اپسرا ہو تم کوئی یا جنت کی کوئی حور ہو
آسمان سے اُتری ہوئی کوئی پری تو ضرور ہو

عشق کی کتاب ہو یا حسن کی آب و تاب ہو
کہانی کوئی نایاب ہو یا قصہ لاجواب ہو

تم نہ جانے کون ہو میں سوچتا ہوں بار ہا
کہہ رہا ہے دل ہے میرا کوئی معجزہ ہو پیار کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidتم نہ جانے کون ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *