جاؤ! جا کر اُسے ڈونڈھو

وہ بہت پریشان تھا. پریشانی ایک نہیں تھی بلکہ شاید پریشانیوں کا کوئی ٹولہ مل کر اُس کے گھر آگیا تھا. اُس نے ان سے جان چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا. ہر وقت پریشان اور بے چین رہنے لگا. بہت سوچا, سمجھ نہ آیا. دوستوں سے پوچھا کوئی فائدہ نہ ہوا. آخر مارا مارا پھرنے لگا اور جگہ جگہ سے پوچھنے لگا.
ایک دن اُسے ایک فقیر ملا جب اُس سے پوچھا تو اُس نے اُسے کہا “تمہاری زندگی میں ایک انسان ایسا تھا جو تمہارا بہت خیال رکھتا تھا. وہ تمہارا سب سے پیارا دوست تھا. وہ بے لوث تھا. اُسے لالچ نہیں تھا. وہ تمہاری بہت پرواہ کرتا تھا. وہی تمہاری سب پریشانیوں کو ٹالتا تھا اور تمہیں خوش رکھتا تھا اُسے تم نے کھو دیا تھا. جاؤ! جا کر اُسے ڈونڈھو.
میں اُٹھ کر واپس آگیا. اُس کی بات میرے دِل کو لگ رہی تھی. میں نے اپنی پرانی ساری زندگی پر نظر ڈالی. سب تو اُسی طرح میرے ساتھ تھے. سمجھ میں نہ آیا
میں دوبارہ اُس فقیر کے پاس گیا اور کہا کہ نہیں پتا چلا کہ وہ کون ہے.
اُس نے میری نظروں سے نظریں ملائیں. اُس کی آنکھوں میں بہت گہرائی تھی بہت پیار تھا اتنا پیار کہ میرا اُس پر قربان ہو جانے کو دِل چاہا. بولا
وہ تم خود ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidجاؤ! جا کر اُسے ڈونڈھو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *