خزانہ کیوں واپس کر دیا

ایک شخص رات کو اپنی گاڑی پر پہاڑی علاقے میں کسی سنسان جگہ سے گزر رہا تھا. سڑک پر موڑ مڑتے وقت اس کی گاڑی کا ٹائر کسی چیز سے ٹکرایا، گاڑی ڈگمگائی مگر اس نے سمبھال لی. اس نے گاڑی روکی، وہ نیچے اترا اور اس چیز کو سڑک پر سے ہٹانے کے لیے اس کی طرف بڑھا.

اسے دور ہی سے اس جگہ پر کچھ چمک سی دکھائی دی. قریب جا کر دیکھا تو یہ ایک تھیلا سا تھا تھیلا کیا تھا ایک اچھی خاصی بوری تھی جس کا منہ ٹائر لگنے سے کھل گیا تھا اور اس میں سے کچھ ہیرے جواہرات نکل کر سڑک پر چمک رہے تھے بوری کو اندر سے دیکھا تو ایسے ہی ہیروں سے بھری پڑی تھی.

ارد گرد دیکھا، نہ کوئی آبادی، نہ بندہ نہ بندے کی ذات، جگہ اتنی سنسان کہ وہاں ڈر لگنے لگے.

اس نے اطمینان سے بکھرے ہوئے ہیرے جواہرات اکھٹے کیے، اپنی گاڑی اس جگہ پر لے کر آیا، تھوڑے تھوڑے کر کے اس میں رکھے کیونکہ وہ بوری اتنی بڑی اور بھاری تھی کہ وہ اسے اکیلے اٹھا نہیں سکتا تھا پھر بوری گاڑی میں رکھ کر تمام ہیرے جواہرات اس میں ڈال دیے پھر اس نے سڑک کو غور سے دیکھنے اور گاڑی کے اندر اطمینان کر لینے کے بعد کہ کوئی ہیرا باہر تو نہیں رہ گیا اس بوری کا منہ بند کر دیا.

اس سب عمل کو ایک گھنٹہ تو لگ ہی گیا ہو گا. اس دوران کوئی اور گاڑی یا انسان وہاں سے نہ گزار‫. گزرتا بھی کیسے وہاں سے تو بعض اوقات کوئی پورے ہفتے میں ایک بار بھی نہیں گزرتا تھا.
وہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ ہیرے جواہرات کس کے ہیں. مگر پوچھتا بھی تو کس سے، خیر ہیرے جواہرات لے کر وہ اپنے گھر آگیا اور وہ بوری اسی طرح ایک کمرے میں رکھ کر اسے تالا لگا دیا.

اسے اتنا اندازہ تو ضرور تھا کہ یہ دولت کسی بادشاہ یا نواب سے کم حیثیت شخص کی نہیں ہو سکتی تھی. اس ملک میں ایسے چند گنے چنے ہی لوگ تھے. خاموشی سے کسی کو بھی بتائے بغیر وہ اس کھوج میں لگ گیا کہ اس کا مالک کون ہے آخر کار اسے یہ سمجھ آ گیا کہ یہ دولت ان لوگوں میں سے کسی کی بھی نہیں تھی

اب ایک اور چیلینج تھا خفیہ خفیہ دوبارہ کوشش کی اور بہت دیر کے بعد سراغ پالیا. دور دراز کسی بہت بڑے ملک کا ایک بادشاہ تھا جس نے ان پہاڑوں کے درمیان اپنا خفیہ خزانہ رکھا ہوا تھا. لاتے یا لے جاتے وقت خدا جانے کیسے یہ بوری رستے میں گر گئی اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی

یقین کر لینے کے بعد وہ شخص اس بادشاہ کے دربار میں گیا اور اسے اس کی گم شدہ دولت کے بارے میں پوچھا تب تک بادشاہ کو خود بھی معلوم نہیں تھا

جب خزانہ دیکھا تو واقعی ایک بوری کم تھی.

اس طرح یقین کامل کے بعد اس نے وہ بوری بادشاہ کو لا کر دے دی.

بادشاہ نے اسے پوچھا کہ مجھے تو معلوم بھی نہیں تھا اور تمہیں کوئی دیکھ بھی نہیں رہا تھا تم نے یہ خزانہ کیوں واپس کیا.

وہ بولا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے لائق بنایا ہے اور بہت قابلیت دی ہے. میں اس قابلیت سے پیسے کمانا چاہتا ہوں میں ایسی دولت نہیں لینا چاہتا جو میری نہ ہو، نہ میں کسی کی بھول سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں اور نہ کسی کی سادگی سے، میں کسی کی مجبوری کی وجہ سے بھی اس کی چیز اس سے کم قیمت پر نہیں لینا چاہتا اور دوسری بات کہ مجھے وہاں کو دیکھ رہا تھا یا نہیں تو میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہاں وہاں ایک شخص مجھے دیکھ رہا تھا بلکہ مجھ پر نظریں رکھے ہوا تھا اور اس دھیان پوری طرح میری طرف تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور وہ میں خود تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidخزانہ کیوں واپس کر دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *