دعائیں

جو دعائیں ہم دوسروں سے کہہ کر لیتے ہیں وہ دعائیں دوسرے ہمیں بول کر دیتے ہیں۔ وہ دعائیں بلا شبہ قبولیت کا مرتبہ پانے کے لیے بے تاب ہوتی ہیں۔ دعائیں جو ہوئیں۔

مگر کچھ دعائیں ایسی بھی ہیں جو ملنے سے پہلے ہی قبول ہو چُکی ہوتی ہیں یہ دعائیں وہ ہیں جو کسی کے دل سے نکلتی ہیں۔ یہ بغیر کہے سُنے۔ یہ دعائیں دوسروں کی خدمت کرنے سے ملتی ہیں، کسی کی خدمت ہم تب ہی کرتے ہیں جب اُس سے محبت اور اُس کی عزت کرتے ہیں۔

دعائیں کسی کے ساتھ دکھ سُکھ بانٹنے سے بھی ملتی ہیں، کسی کا بن جانے سے یا کسی کو اپنا بنانے سے بھی ملتی ہیں، کسی کو منا لینے سے یا کسی کی مان لینے سے ملتی ہیں، کسی اچھائی کے لیے اصول بنا لینے سے یا کسی کے دکھ کو مٹانے کے لیے اپنے اصول توڑ دینے سے بھی ملتی ہیں۔ محنت سے جیت جانے سے یا کسی کم زور سے ہار جانے سے بھی ملتی ہیں۔

یہ صرف انسانوں سے ہی نہیں ملتیں، ہواؤں سے بھی ملتی ہیں جن میں کسی کو آپ کی وجہ سے سُکھ کا سانس آتا ہیے

یہ اُن پودوں سے بھی ملتی ہیں جن کی آپ آبیاری کرتے ہیں۔ اُن پھولوں سے بھی ملتی ہیں جو اُس آبیاری کی وجہ سے کھلتے ہیں۔ اُس خوش بُو سے بھی ملتی ہیں جو اُن پھولوں سے نکل کر بکھرتی ہے۔ اُن فضاؤں سے بھی ملتی ہیں جو اُس خوش بُو سے معطر ہوتی ہیں۔ اُن بھنوروں اور تتلیوں سے بھی ملتی ہیں جو اُس خوش بُو سے دیوانے ہو کر پھولوں پر آتے ہیں جن کی وجہ سے پھولوں پر پھل لگتا ہے اُن پرندوں سے بھی ملتی ہیں جو اُس پھل کو کھاتے ہیں

یہ اُس راہ سے بھی ملتی ہیں جس سے آپ کانٹا ہٹا دیتے ہیں۔ آپ کے گھر کی اُس بے جان دیوار سے بھی ملتی ہیں جسے آپ گندا نہیں ہونے دیتے وہ بھی کہتی ہے یا الہی ان مکینوں کی خیر رکھنا اور انہی کو یہاں رہنے دینا۔

اگر میں خدمت جیسے ایک لفظ کی برکت کو لکھنا چاہوں تو کتابوں پر کتابیں بن جائیں اگر اسی بات کو ایک فقرے میں بیان کروں تو یوں کہوں گا کہ فطرت کے کسی بھی عنصر کی خدمت کرنے سے فطرت کی ہر چیز سے دعائیں نکلتی ہیں کیوں کہ فطرت کی ہر چیز ایک دوسری کے ساتھ ہم آہنگ اور منسلک ہے۔

فطرت اللہ کی چیز ہے اور دعائیں بھی اُس کی۔ اور قبول کرنے والا بھی وہی۔
محبت بھی اُس کی، عزت بھی اُسی نے کہا ہے اور خدمت بھی اُسی نے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidدعائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *