زبردستی کی شادی

اگر کوئی شخص کسی سے بات نہ کرنا چاہے تو دنیا کا کوئی قانون کسی کو اُس سے بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح اگر کوئی کسی کو چھونے نہ دینا چاہے۔ کسی کو بھی حق نہیں ہے کہ کوئی اسے ہاتھ بھی لگائے اور اگر زبردستی ہاتھ لگا لے تو اس کا ردِ عمل کی سختی کا تعلق قانون کے ساتھ ہے یا اُس شخص کی اپنی طاقت کے ساتھ۔
زبردستی کی شادی میں بالخصوص لڑکی کو یا لڑکے کو ایک ایسے شخص کے ساتھ ساری عمر رہنے کا اور اس کے ساتھ سونے کا لائسنس دے دیا جاتا ہے جس سے ہو سکتا ہے کہ وہ کبھی بات بھی نہ کرنا چاہتا ہو۔
زنا بالجبر میں لڑکی کے پاس رونے چیخنے چلانے ہاتھ پیر چلانے اور سوسائٹی سے مدد مانگنے کا حق اور آزادی ہوتی ہے ۔جبکہ زبردستی کی شادی میں عمل وہی ہوتا ہے جبکہ تمام حقوق سلپ کر لئے جاتے ہیں۔ دنیا کا کوئی مذہب ایسی شادی کو نہیں مانتا اگر یہ شادی نہیں ہے تو یہ عمل زنا بالجبر ہی ہو سکتا ہے یا ہو سکتا ہے کہ دینی کتابوں میں اسے کچھ اور کہتے ہیں مگر اس عمل کے نیگیٹیو ہونے کی اندازہ صرف اسی لڑکی کو ہو سکتا ہے جس کے ساتھ یہ ہو۔
ایک دفعہ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ خرکار جب بھاگنے کی کوشش میں پکڑے جانے والے بچے کو سزا دیتے ہیں تو اس کی زبان کے نیچے ایک بیر یا اس کے برابر کوئی گول چیز رکھ کہ اس کا منہ ٹیپ سے بند کر دیتے ہیں پھر اس کو اتنی تکلیف اور درد پہنچاتے ہیں کہ وہ برداشت سے باہر ہو جاتی ہے جس سے بچہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔
مگر اس تکلیف کے دوران اس بیر کی وجہ سے اس کے منہ سے چیخ تو دور آواز بھی نہیں نکلتی ۔ بس صرف آنسو ہی نکلتے ہیں مگر زبردستی کی شادی میں تو لڑکی کو آنسو بہانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidزبردستی کی شادی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *