رشتوں کی پرورش مہ و سال کرتے ہیں

انٹرنیٹ پر ہم دوستوں کی ایک بحث چل رہی تھی، اپنی ہی طرف کے ایک دوست کی ہاں میں ہاں نہ ملانے پر انہوں نے میرے لیے یہ شعر لکھ دیا

“اختلاف جہاں کا رنج نہ تھا
دے گئے مات ہم خیال ہمیں”

جس کے جواب میں میں نے درج ذیل شعر کہہ کر لکھ دیا

اختلاف رائے میں بھی اپنوں کا احترام و خیال کرتے ہیں
زمانہ لگتا ہے، رشتوں کی پرورش مہ و سال کرتے ہیں

کون ہو گا جو جیتے لفظوں سے اور ہار دے اپنوں کو
جانے بھی دیجیے صاحب آپ بھی کمال کرتے ہیں

رشتوں کا انتظار مہ و سال کرتے ہیں

کچھ دنوں کے بعد ایک صبح میری بیگم باورچی خانے میں ناشتہ بنانے کی تیاری میں تھیں، میری بیٹی پچھلے دو دن سے شامی کباب بنانے کی فرمائش کر رہی تھیں، کہنے لگی بس امی ابھی شامی کباب بنانے شروع کر دیں وہ بولیں دال نہیں ہے تم ناشتہ کر لو میں آج بنا دوں گی میری بیٹی کہنے لگیں دال میں لا دیتی ہوں وہ بولیں میں نے پانچ منٹ ناشتہ بنا لینا ہے تو اُس نے کہا میں پانچ منٹ سے پہلے آؤں گی
ایک شرط سی لگ گئی کہ اگر ناشتہ تیار ہونے سے پہلے آئی تو وہ جیتی اور اگر ناشتہ تیار ہو گیا تو اس کی ماں.
میری بیٹی مجھے کہنے لگی آپ بھی میرے ساتھ آئیں اُس نے گاڑی نکالی اور ہم اڑتے گئے ویسے بھی مارکیٹ جند قدم ہی کے فاصلے پر تھی اپنے خیال سے ہم پانچ منٹ سے پہلے ہی واپس آ گئے، مگر جب آ کر دیکھا تو ناشتہ میز پر سجا ہُوا تھا
شائد میرے ساتھ جانے کی وجہ سے میری بیگم نے جیتنا اور بھی ضروری سمجھا
کافی دیر کے بعد بھی جب میری بیٹی کے دل سے اس ہار کا اثر نہ گیا تو میں نے اسے کہا کہ اگر ابھی بھی تم جیتنا چاہتی ہو تو بتاؤ وہ کہنے لگی آپ جو مرضی کر لیں اب ہم ہار چکے ہیں یہ سنتے ہی میری بیگم کے کچن سے کھلکھلا کر ہنسنے کی آواز آئی میری بیگم کی اُس ہنسی کا میرے اوپر اثر شوہر حصرات آسانی سے سمجھ سکتے ہیں پھر بھی میں نے بڑے اعتماد سے کہا کہ تم دیکھو تو سہی میں کیا کرتا ہوں اگر وہ ہمارے سامنے ہار نہیں مانیں گی تو بھی دل میں انہیں لگے گا کہ وہ ہار گئ ہیں اور تمہیں لگے گا کہ تم جیت گئی ہو
اچھا ٹھیک ہے کر کے دکھائیں تو میں نے اونچی آواز میں اپنی بیگم سے کہا کہ آپ کو پتا ہےکہ ہم خود آپ سے جان بوجھ کر ہارے ہیں تو وہ ایک بار پھر ہنسیں مگر جب میں نے اس سے پہلی پوسٹ والے اپنے شعر کو تھوڑا سا بدل کر یوں سنایا

مقابل ہونے پر بھی اپنوں کا احترام و خیال کرتے ہیں
زمانہ لگتا ہے ا ن رشتوں کا انتظار مہ و سال کرتے ہیں

کون ہو گا جو جیتے دال سے اور ہار دے اپنے پیارے کو
چھوڑئیے، جانے دیجیے، آپ بھی کمال کرتے ہیں

تو وہ واقعی کچن سے اپنی ہار کی آواز دیتے ہوے ہمارے درمیان آ کر بیٹھ گئیں
اصل میں تو ہم دونوں ہی اپنی بیٹی سے ہار جانا چاہتے تھے مگر جب میری بیگم سب کچھ چھوڑ کر ہمارے درمیان آ گئیں تو مجھے یوں لگا کہ ہم سب ہی جیت گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidرشتوں کی پرورش مہ و سال کرتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *