شادی میں میری امی کے ساتھ ٹریجیڈی

میری بیٹی کی شادی تھی۔ شادی کے دو تین روز بعد میری امی نے مجھے اپنی ٹریجڈی کا قصہ سنایا۔ کہنے لگیں جب میں شادی میں شرکت کے لیے گئی اور میری گاڑی ہال کے پاس رکی۔ بارات ابھی ابھی آئی تھی اور دولہا اور باقی لوگ ہال کےباہر کھڑے تھے۔ ڈھول بج رہا تھا۔ میں گاڑی سے باہر نکلی اور جب بارات کی طرف دیکھا تو میں نے اپنا سَر پکڑ لیا اور اپنے دل میں کہا یا الہی ایسے لوگ تو نہ میں نے گاؤں میں دیکھے اور نہ کسی شہر میں۔ یہ کس قسم کے لوگ ہیں کیا اس قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں “یا اللہ ایہہ ماجد نے کی کیتا۔ اوہنے کُڑی کِتھے روڑھ دیتی” پریشانی اور افسوس کے ساتھ میں اُن کے پیچھے پیچھے چل دی ابھی میں ہال کے دروازے کے پاس ہی پہنچی تھی کہ علی(پوتا) مجھے دیکھ کر بھاگا بھاگا آیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر بولا ماما ہمارا ہال اُدھر ہے۔ یہ سُن کر میری جان میں جان آئی اور جب ہماری بارات آئی تو میرا دل باغ باغ ہو گیا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidشادی میں میری امی کے ساتھ ٹریجیڈی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *