شادی میں میرے ساتھ ٹریجیڈی

شادی بیاہ کا وقت بہت نازک ہوتا ہے۔ قدم قدم پر دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی زندگی کے سب بہترین دوست بلائے ہوئے ہوتے ہیں رشتے دار موجود ہوتے ہیں نئے رشتے بن رہے ہوتے ہیں یوں سمجھیں کہ آپ اپنی ساری دنیا کے بیچ کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ نہ کرے ذرا سی بھی اونچ نیچ یا چُوک ہو جائے تو ساری عزت داؤ پر لگ جاتی ہے۔

میں بھی ایسے ہی ایک موقعہ پر بال بال بچ گیا۔ ہوا یوں کہ میری بیٹی کی شادی تھی سارا ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا ہر طرف گہما گہمی تھی۔

میرا بیٹا اپنی امی یعنی میری بیگم، اُن کی ایک بہن اور ہماری بیٹی کو بیوٹی پارلر سے لا کر برائیڈل روم میں چھوڑ کر ہال میں آ گیا جبکہ میں ہال میں پہلے سے ہی مہمانوں سے مل رہا تھا۔ بارات کا انتظار تھا

میں گھومتا گھماتا ہال کے دروازے کے قریب آیا تو وہاں چار پانچ خواتین ایک ہی جگہ کھڑی تھیں جن میں سے دو کو میں نہیں پہچانتا تھا اُن دو میں سے ایک اِس قدر حسین و جمیل تھیں کہ اُن کے چہرے پر نظر نہیں ٹِکتی تھی۔ وہ سب سے الگ تھیں۔ لگتا تھا اللہ تعالیٰ نے اُنھیں فُرصت کے لمحات میں بنایا تھا۔ کون تھیں اور کہاں سے آئیں، کچھ پتا نہیں۔ میں نے اپنی ساری عمر میں اتنی خوب صورت عورت کبھی نہ دیکھی تھی شاید کوئی پری تھی یا جنت کی حور۔ میں نے حوروں کے قصے ضرور سُنے تھے مگر دیکھی کبھی نہیں تھی۔ آج اللہ نے دکھا دی اور پھر میری موت کا سامان یہ کہ وہ میری ہی طرف کچھ خاص نظروں سے دیکھ رہی تھی بلکہ اگر میں صاف صاف اور ایمان داری سے کہوں کہ وہ ایسی پیار بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی جو میرے دل کے آر پار ہو جائیں اور میرے ہوش اڑا دیں تو غلط نہ ہو گا۔ وہ اپنے حُسن کے سحر سے مجھے بنا ڈور کے کھینچے چلی جا رہی تھی۔ اُس نے تو مجھے ہر طرح سے بے اختیار کر کے پوری طرح اپنے بس میں کر لیا تھا۔

ایک طرف بیٹی کی بارات اور دوسری طرف یہ فتنہ، خدا جانے وہ اپَسرا کہاں سے آ گئی تھی پھر کہوں گا کہ وہ اِس دنیا کی نہیں تھی۔

میں بڑے کنٹرول والا آدمی ہوں مگر سچ بولوں تو اس سے پہلے میں نے عورتوں سے بچنے کے لیے اتنی طاقت کبھی نہیں لگائی۔ شاید اللہ کو میرا امتحان منظور تھا یہ خیال آتے ہی میں نے دل میں لاحول پڑھی اور دعا مانگی کہ یا الہی تُو نے ساری عمر بچائے رکھا آج بھی مجھے تیرے سوا بچانے والا کوئی نہیں۔ تو مدد نہ کرے تو آج کے اِس امتحان میں میرے پاس ہونے کا کوئی چانس نہیں۔

بقول غالب
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کُفر
کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے

اگر دل اِدھر مائل ہو گیا تو ساری عمر کے کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ ناحق کافروں میں مروں گا۔ ایک طرف اکٹھی کی ہوئی ساری دنیا، دوسری طرف برائیڈل روم میں بیگم، سامنے یہ قیامت اور میں پُل صراط پر، اُلٹا لٹکا ہوا۔

دل مضبوط کرنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو اِس فتنے کے ساتھ لڑنے اور اُس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کر لیا ایک ترکیب دماغ میں آئی یوں سمجھیں کہ اللہ کی مدد آ گئی۔

میں ایک طرف سے شروع ہوا پہلی خاتون سے اونچی زبان میں پوچھا بہن جی آپ کے لیے سُوپ منگواؤں؟ دوسری کو صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا بہن جی آپ اُدھر بیٹھ جائے۔ اُن خاتون کا چوتھا نمبر تھا جب تیسری خاتون کو ابھی بہن جی ہی کہہ رہا تھا تو میرا بیٹا بھاگا بھاگا آیا اور اُنھی چوتھی خاتون سے کہنے لگا امی آپ کو برائیڈل روم میں آنٹی بلا رہی ہیں

“امی” ہیں!!! میری بیگم!!! یہ میری بیگم ہیں؟ ستیاناس ہو ہیوٹی پارلر کا جو میری بیٹی کی شادی میں میرا ہی گھر اجاڑنے لگا تھا ایک گھر بس رہا تھا دوسرا اجڑنے چلا تھا

اصل میں میری بیگم بہت سادہ خاتون ہیں بیوٹی پارلر تو کیا کبھی گھر میں بھی میک اپ نہ کیا آج پہلی دفعہ احساس ہوا کہ یہ اتنی خوب صورت ہیں وہ بھی ساری عمر گزارے کے بعد! بہرحال اللہ نے ہمیں موت کے منہ سے بچا لیا۔

میک اپ کرانے والی بہنوں کے نام

تو میری پیاری بہنو! میک اپ کراتے وقت خیال رکھا کرو، ایسا نہ ہو کہ اگر قسمت سے خاوند وفادار نکل آئے تو اپنے آپ کو اُس کی بہن کہلا کر اپنا گھر اجاڑ بیٹھو اور اگر ہر جائی ہو تو بے چارہ بھری محفل میں آپ ہی کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہو اور آپ خود ہی اپنے گھر میں ناچاقی کا سلسلہ شروع کر بیٹھو۔ میں تو یہ بھی کہوں گا بیوٹی پارلر کو ہی غیر آباد کہہ دو، اگر ہمت ہے تو!!! ہمت اِس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ جب ایک خاتون کو میں نے یہی بات کی تو وہ کہنے لگیں نہ جی نہ، گھر اُجڑتا ہے تو سو دفعہ اجڑ جائے، بیوٹی پارلر کبھی نہ چھوڑین گے۔ گھر اجڑے گا تو بسانا بھی اِسی نے ہے۔ آپ کو نہیں پتا اِس میں بڑی طاقت ہے۔ اس کے سہارے تو گھر کسی بھی عمر میں بسایا جاسکتا ہے۔ بلکہ بار بار بسایا جا سکتا ہے۔ اُن کی بات سُن کر میری دوسری شادی کی اپنی دبی ہوئی خواہش کو امید کی چنگاری نے سلگھا دیا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں بھی بیوٹی پارلر سے مستفید ہو لوں تو کسی کے خوابوں کا شہزادہ نظر آ سکتا ہوں۔

پھر میں نے اُن خاتون سے کہا جب میک اپ اترے گا تب؟ تو کہنے لگیں آپ نے کبھی اخبار کے اشتہاروں میں نہیں پڑھا ‘مُشتری ہوشیار باش’ اُس کا ذمہ، ہمارا ذمہ دوش پوش۔ اُن کی اِس بات نے امید کی سُلگھتی ہوئی آنچ پر پانی ڈال دیا کہ اگر دوسری طرف بھی ایسا ہی ہو گیا تو پھر میرا کیا بنے گا۔

میک اپ کی ہوئی خواتین کو دیکھنے والے بھائیوں کے نام

اور میرے پیارے بھائیو! آپ لوگوں کے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ ہر میک اپ کی ہوئی عورت کو غور سے اور اچھے سے دیکھ لیا کرو اپنی بیوی کی نظر سے۔ دھیان کے ساتھ۔ تاکہ تمہارا گھر اجڑنے سے بچ سکے مگر اگر وہ خاتون آپ کی بیوی نہ نکلی تو ہو سکتا ہے کہ آپ بیوٹی پارلر جائے بغیر ہی نہ پہچانے جائیں اور ناک نقشہ بھی بدل جائے۔ گھبرائیے مت یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے وارے نیارے ہی ہو جائیں۔ بہرالحال ساری ذمہ داری آپ کی اپنی ہو گی مجھے قصور وار نہ ٹھرائیے گا۔ میں نے تو ساری بات نیک نیتی سے آپ کے فائدے میں کی ہے۔
“اگے تیرے بھاگ لچھئیے”

میک اپ ہوئی خواتین کو دیکھنے والے معصوم مردوں کو میری طرف سے “اللہ کے حفظ و امان میں” اور دھوکہ کھانے والوں سے میری ہمدردی “نہ رو کوئی گل نہیں”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidشادی میں میرے ساتھ ٹریجیڈی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *