غیرت مند کیک

شادی کے بعد پہلی عید تھی۔ اُن کی بیٹی اپنے میاں کے ساتھ اپنے گھر سے چلی اور اپنے ماں باپ سے ملنے کے لیے اُن کے گھر آئی۔ پونے گھنٹے کا رستہ تھا جب وہ ڈیڑھ تک نہ پہنچے تو اُنہیں فون کیا تو کہنے لگے کہ پندرہ منٹ میں آ رہے ہیں۔

وہ آئے تو اُن کے ہاتھ میں ایک شان دار کیک تھا۔ جب اُن سے پوچھا کہ رستے میں اتنی دیر کہاں رہ گئے تو کہنے لگے کہ آپ لوگوں کے لیے کیک لینے چلے گئے تھے۔

کیک تو کہیں سے بھی لیا جا سکتا تھا۔ آتے ہوئے کسی بھی جگہ رکتے اور پانچ منٹ میں کیک لے لیتے۔ مگر وہ شاید تو ایسا کیک لانا چاہتے تھے جو انہوں نے اپنے دل میں سوچا ہوا تھا جس میں میٹھے کی جگہ اُن کے دل کا پیار بھرا ہوا ہو اور کریم کی جگہ اس دنیا کی ساری محبت! بھلا وہ کہاں سے ملتا۔ خیر ڈھونڈتے ڈھونڈتے اُنہیں ایک کیک ایسا مل گیا جو اُنہیں لگا کہ یہ وہی کیک ہے جس کی اُنہیں تلاش تھی۔

کیک ماں باپ کو پیش کیا اُن کی دعائیں لیں ، بہت ساری باتیں کیں ، کھانا کھایا اور آخر میں خود ہی کہنے لگے ‘کیک کاٹیں’ اصل میں وہ دکھانا چاہتے تھے کہ اس کیک کے اندر وہ کیا چھپا کر لائے ہیں۔

کیک کھانے کے بعد وہ کیک خود اُنہیں ہی پسند نہیں آیا۔ شاید یہ ویسا نہیں تھا جو انہوں نے سوچا تھا۔

کیک کے سامنے ہی اُس کی برائیں شروع کر دیں۔ کیک چُپ چاپ خاموشی سے سُنتا رہا ، سہتا رہا اور اپنے ہی آپ میں شرمسار ہوتا رہا۔ اُسے اپنے آپ پر بہت افسوس ہوا کہ وہ اپنے آپ کو اُن کی امیدوں اور اُن کے پیار کے مطابق نہیں بنا پایا۔

بیٹی اور داماد کی باتیں سُن کر گھر والوں میں سے بھی کِسی نے نے اُن کا دل رکھنے کے لیے اُن کی ہاں میں ہاں ملا دی۔ اب تک تو کیک ندامت کی وجہ سے خاموش تھا۔ گھر والوں کے منہ سے جو بات سُنی تو اُس کا ضبط ٹوٹ گیا اور وہ رونا شروع ہو گیا۔ بیٹی اور داماد تو جو کہیں سو کہیں آپ تو نہ کہیں

وہ تو اُن کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنی باتوں میں لگ گئے اور کیک روتا رہا۔ وہ اتنا رویا ، اتنا رویا کہ اُس پر ہر جگہ آنسُو ہی آنسُو نظر آنے لگے۔ اور دکھ سے اُس کا دل بھی پگھنا شروع ہو گیا۔

اچانک بیٹی کی نظر اُس پر پڑی تو وہ سمجھی کہ گرمی کی وجہ سے پگھل رہا ہے۔ اپنے بھائی سے کہنے لگی اِسے فرج میں رکھ آؤ

کچھ دیر مزید بیٹھنے کے بعد بیٹی اور داماد اپنے گھر چلے گئے اور یہ لوگ اُن خوشیوں کو سمیٹنے میں لگ گئے جو وہ سارے گھر میں بکھیر گئے تھے۔ پھر اُنہی خوشیوں کی خوشی خوابوں میں دیکھنے کے لیے سو گئے۔

صبح اُٹھ کر اُن کے بیٹے نے فرج کھولا تو کیک لیے بھاگا بھاگا آیا اور کہنے لگا ‘امی امی یہ کیک تو بدل گیا ہے۔ اتنا خوب صورت! ایسا ڈیزائن تو ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔ اِس کا تو رنگ بھی بدل گیا ہے۔’ کیک دیکھ کر سب لوگ حیران رہ گئے اور جو چکھا تو ذائقہ ایسا کہ جنت سے آیا ہو۔ بیٹی اور داماد کے دل کا سارا پیار اور ایک انوکھی سی کمال کی ایسی محبت اُس میں بھری ہوئی تھی جو انہوں نے کبھی تصور میں بھی نہیں دیکھی تھی ۔

کیک بہت غیرت مند نکلا۔ اُس نے اپنی ہستی مٹا دی اور بیٹی اور داماد کی محبت کا بھرم رکھ لیا اُس نے رو رو کر اپنا دل پگھلا لیا اور اللہ سے دعا مانگی کہ یا الہی آج میرا بھرم رکھ لے اور مجھے ایسا بنا دے کہ گھر والے مجھے جھوٹ موٹ میں یا اپنی بیٹی اور داماد کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے بھی بُرا نہ کہہ سکیں

اللہ نے اُس کی آنکھوں میں آنسو، پگھلا ہوا دل اور مِٹی ہوئی ہستی دیکھ کر اُس کی دعا قبول کر لی اور اُس کے اندر اس کائنات کی ساری محبت بھر دی۔

۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidغیرت مند کیک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *