مجھے تو دعا بھی نہیں مانگنی آتی

ایک دفعہ میرے پاس اتنا ذیادہ کام تھا کہ میرے لیے دن اور رات کا فرق بہت کم رہ گیا تھا. نہ سونے کا وقت نہ کھانا کھانے کا وقت. اِسی دوران ایک دِن میں تقریبا” چار بجے سہ پہر, دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے نکلا. گاڑی تک جاتے جاتے میں نے اتنے ذیادہ کام کے لیے اللہ کا شکر ادا کیا اور ساتھ ہی دعا مانگی کہ یا اللہ بس! اتنا ہی کافی ہے.
گاڑی میں بیٹھا اور کھانا کھانے گھر چلا گیا. یہ موبائل فون کے زمانے سے پہلے کی بات ہے. جب میں واپس آیا تو میرے لیے اگلے دن کی ایک میٹنگ کا پیغام تھا. اُس میٹنگ میں مجھے اتنا کام ملا جو کہ میرے موجودہ کام سے کئی گُنا ذیادہ تھا اور کئی سال تک بخوبی چلتا رہا.
کچھ سالوں کے بعد ایک دن پھر میں اُسی طرح دیر سے کھانا کھانے کے لیے نکلا تو مجھے اپنی وہی دعا یاد آ گئی. میں نے اللہ تعالیٰ سے بہت معافی مانگی اور سوچا کہ مجھے تو دعا بھی نہیں مانگنی آتی. اگر میں اب دعا مانگتا تو یہ مانگتا کہ یا اللہ تُو بے بہا کام دے. اُس کے ساتھ اسے کرنے کی سمجھ اور ہمت بھی دے اور کام بھی ایسا جو سب کے لیے رحمت کا باعث ہو.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidمجھے تو دعا بھی نہیں مانگنی آتی