مجھے مسئلہ مت بتاؤ

مالک مینجر سے کہتا ہے مجھے مسئلہ مت بتاؤ میرے ساتھ مسئلے کے حل کی بات کرو. سوداگر کہتا ہے مجھے نقصان مت بتاؤ میرے ساتھ نفعے کی بات کرو. عاشق کہتا ہے مجھے نفعے نقصان سے کیا لینا دینا میرے ساتھ ہجر و وصال کی بات کرو, بچہ کہتا ہے مجھ پر اپنی بات مت ٹھونسو جو میں پوچھ رہا ہوں وہ بتاؤ. نوجوان کہتا ہے میرے رستے سے ہٹ جاؤ مجھے دنیا پلٹنے دو اور اگر لائق ہو تو میرے ساتھ آؤ.
سو طرح کے لوگ اور سو طرح کے مسائل. ابھی ابھی پڑھنے سے فارغ ہوا شخص اِن میں گِھر جاتا ہے. اُسے اگر اِن سب کے ساتھ رہنا ہے تو اِن سب کو کچھ نہ کچھ دینا ہے. کسی کو مسئلے کا حل, کسی کو کما کر نفع اور کسی کو راہ نمائی. تبھی اِن کے درمیان اُس کی جگہ بن پائے گی. جِس سے وہ چلتی دنیا کا حصہ بن سکے گا. اگر وہ یہ سب کچھ نہ کر سکا تو ناکامی.
یہ سب کچھ کرنے کے لیے اُس میں سمجھ کا ہونا بہت ضروری ہے. سمجھ صِرف لگن اور پیار میں سیکھنے سے آتی ہے ورنہ ڈگری کتنی بھی بڑی کیوں نہ ہو صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا ہی ہے اور اِن سارے مسائل کے حل کاغذ کا ایک ٹکڑا تو قطعا” بھی نہیں دے سکتا. جن لوگوں کو مسائل کے حل نہیں آتے اُن کے ہاتھ میں کاغذ کا ٹکڑا جتنا مرضی بڑا ہو نوکری ہی ڈونڈھتے رہتے ہیں اور جن کو مسائل کے حل آتے ہیں ان کے پاس چاہے کاغذ کا ٹکڑا ایک بھی نہ ہو نوکریاں انہیں ڈونڈھتی رہتی ہیں بلکہ کئی کئی دفعہ تو نوکریاں اُن کی غلام ہو جاتی ہیں اور وہ نوکریاں بانٹنا شروع کر دیتے ہیں.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidمجھے مسئلہ مت بتاؤ