مکھی تب ہٹے گی جب اندر صاف ہو گا

بابا جی نہا کر آئے دھلا ہوا صاف ستھرا جوڑا پہنا اور نئے پلنگ پر بیٹھ گئے ایک شاگرد پاس آ کر کوئی مسئلہ پوچھنا شروع ہو گیا بات ہو ہی رہی تھی کہ ایک چھوٹی سی مکھی آئی اور بابا جی کے آس پاس اڑنے لگی‫‫‫. کبھی منہ پر بیٹھتی اور کبھی کان پر، کبھی بابا جی اڑاتے اور کبھی شادگر، مگر وہ اتنی ڈھیٹ تھی کہ پھر آ کر بیٹھ جاتی شاگرد نے مکھی اڑانے کے لیے اپنا ہاتھ ہوا میں لہرایا اور ساتھ ہی بولا پرے مر، ادھر کیا ڈھونڈ رہی ہو
بابا جی بولے مجھے پوچھو بیٹا اصل میں یہ مکھی میرے اندر جانے کا رستہ ڈھونڈ رہی ہے وہی خراب ہے، وہی گندا ہے. ویسے تو دیکھو میں نہا دھو کر آیا ہوں کپڑے بھی صاف ستھرے پہنے ہیں یہاں اسے کیا ملے گا. یہ مکھی تب ہٹے گی جب اندر صاف ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidمکھی تب ہٹے گی جب اندر صاف ہو گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *