میری بیگم نہیں مانیں

پچھلے سال مئی کے آخری دنوں کی بات ہے سخت گرمی تھی، ہمارے گھر کی گھنٹی بجی تو میں باہر دیکھنے کے لیے گیا گیٹ پر پچاس کے قریب کی ایک بہت معزز خاتون اور بیس کے قریب کا ایک لڑکا جس کے ہاتھ میں ایک ٹِفن سا تھا، کھڑے تھے۔

میں نے کہا جی فرمائیے کہنے لگیں ہم لوگ حکومت کی طرف سے انسدادِ پولیو کے لیے کام کر رہے ہیں آپ کا کوئی چھوٹا بچہ؟ میں نے کہا نہیں تو بولیں کسی مہمان کا؟ میں نے کہا نہیں، کسی آئے گئے کا؟ میں نے کہا نہیں کسی نوکر کا؟ میں نے کہا نہیں تو بولیں یعنی آپ کے گھر میں اس وقت کسی بھی قسم کا کوئی بھی چھوٹا پچہ نہیں ہے؟ میں نے کہا جی نہیں انہوں نے اپنی کتاب میں کچھ لکھا اور چلی گئیں ۔

میں اُن کے، بچوں کے بارے میں پوچھنے کے اِس انداز سے بہت محظوظ ہوا اور میں نے یہ بھی سوچا کہ یہ خاتون اس قدر گرمی میں کتنی محنت سے اپنا کام کر رہی ہیں۔

دس پندرہ دن کے بعد پھر گھنٹی بجی اور اتفاْق سے میں ہی باہر گیا۔ وہی دو لوگ کھڑے تھے دعا سلام کے بعد مسکرا کر اُسی انداز سے کہنے لگیں آپ کا کوئی چھوٹا بچہ؟ میں ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اُسی انداز سے جواب دیا کہ نہ تو کوئی ہمارا چھوٹا بچہ، نہ کسی مہمان کا، نہ کسی آئے گئے کا اور نہ ہی کسی نوکر کا۔ ہمارے گھر میں کسی بھی قسم کا کوئی بھی چھوٹا بچہ نہیں ہے، نہ کوئی لڑکا نہ کوئی لڑکی۔ وہ بھی مسکرا دیں پھر میں نے کہا مگر میرے دل میں آپ کی محنت کی بہت قدر ہے کہ اس شدید گرمی میں بھی آپ کس طرح اپنا کام اتنی محنت سے کر رہی ہیں۔ کاش ہو سکے کہ جب آپ اگلی دفعہ آئیں تو ہمارے گھر میں کسی کا چھوٹا بچہ ہو اور میں آپ سے اُس کی ویکسی نیشن کروا سکوں۔
انہوں نے شکریہ ادا کیا اور چلی گئیں

اللہ کی قدرت، ایک دن میں اور میری بیگم کہیں باہر جانے کے لیے نکلے تو وہ خاتون ساتھ والے گھر سے ہمارے گھر کی طرف آ رہی تھیں۔

میں نے اپنی بیگم سے اُن کا تعارف کرایا اور کہا کہ یہ ہیں وہ خاتون جن کی فرض شناسی کے بارے میں میں آپ کو بتا رہا تھا۔

اُن خاتون نے مسکرا کر پوچھا ، سٰر کوئی بچہ آیا؟ میں نے کہا نہیں آج بھی بچہ تو کوئی نہیں ہے مگر اس شدید گرمی میں آپ کی محنت کو دیکھتے ہوئے میں نے اِن (اپنی بیگم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) سے بات کی ہے۔ ابھی یہ مان نہیں رہیں مجھے امید ہے کہ آج آپ سے ملنے کے بعد یہ مان جائیں گی اور ہو سکتا ہے کہ جب آپ اگلی دفعہ آئیں تو ہم آپ کو کوئی خوش خبری سنا دیں

وہ خاتون اور میری بیگم دونوں ہنس پڑیں اور وہ خاتون کہنے لگیں سَر ہمارے کام کو آج تک اتنا کسی نے ایپری شیٹ نہیں کیا۔

اب آپ یہ نہ پوچھیے گا کہ پھر میری بیگم مانیں یا نہیں مانیں کوئی خوش خبری ملی ہا نہیں ملی۔

مجھے لگتا ہے کہ میری بیگم کسی کی محنت کا صلہ دینے میں کبھی کبھی کنجوسی کر جاتی ہیں ورنہ دیکھا جائے تو ذرا سی تو بات تھی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidمیری بیگم نہیں مانیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *