میں یہ ڈائری واپس نہیں لے کر جاؤں گا

کھٹی میٹھی زندگی

کاروبار میں آنے کے کچھ دیر بعد ہی میں نے ڈیفینس میں ایک بہت بڑا بُک اسٹور بنایا اُن دنوں ڈیفینس میں تھوڑے سے اسکُول تھے. میں نے سب اسکولوں میں ایک تعارفی دورہ کیا. اُن میں سے ایک اسکُول جو کہ بہت بڑا تھا جس کے مالک ایک بہت پڑھے لکھے انسان تھے میں اُن سے بھی ملا میرے اُن سے ملنے اور اُن کے ساتھ کام کرنے کے بعد اگر کوئی اُن کے بارے میں پوچھتا تو میں کہتا کہ اتنے شاندار انسان ہیں کہ ان کا نام آئے تو انسان کھڑا ہو جائے

نئے سال کا آغاز تھا میں اُن کے لیے تحفتا” نئے سال کی ایک ڈائری لے گیا اُن سے ملنے کے بعد میں نے انہیں ڈائری پیش کی اور اپنے آنے کا مقصد بتایا وہ بہت اچھی طرح ملے مگر انہوں نے مجھ سے ڈائری لینے سے انکار کر دیا. جب انہوں نے انکار کیا تو میں اپنی سیٹ سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور لازمی طور پر ادب سے ہی اُن سے اسی طرح پوچھا کہ میرے یہ ڈائری آپ کو پیش کرنے میں اخلاقی طور پر یا شرعی لحاظ سے کیا خرابی ہے یا اس کو قبول کرنے میں آپ کو کیا قباحت نظر آتی ہے یا تو مجھے بتائیں یا اسے قبول کریں انہوں نے پھر بھی انکار کر دیا اور کہا کہ میں یہ ڈائری نہیں لے سکتا. میں پھر بھی نہیں مانا مگر اب میں اُن سے زیادہ اصرار نہیں کر سکتا تھا لہذا میں نے وہ ڈائری اُن کی میز پر رکھی اور یہ کہا کہ آپ اس ڈائری کو ردی کی ٹوکری میں پھینکیں یا کہیں اور میں یہ ڈائری واپس نہیں لے کر جاؤں گا کیونکہ مجھے اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی اور یہ کہتے ہوئے ان کے دفتر سے نکل گیا کہ آئیندہ میں کبھی آپ کے اسکُول میں نہیں آؤں گا
میرے باہر کی طرف مُڑتے ہی انہوں نے مجھے آوازیں دینی شروع کر دیں ماجد صاحب، ماجد صاحب، سنیں سنیں سنیں، ایک منٹ واپس آئیں. میں واپس آگیا انہوں نے مجھے بہت پیار سے بٹھایا چائے منگوائی اور کہنے لگے کہ میں ایسی پوزیشن میں ہوں کہ لوگ مجھ سے ہر قسم کا کام کروانا چاہتے ہیں اور میں ہر طرح کا کام نہیں کر سکتا اس لیے میں کسی سے تحفہ بھی نہیں لیتا تو میں نے کہا کہ بہت اچھا ہوتا کہ آپ یہ ڈائری رکھ لیتے اور اسے استعمال نہ کرتے اور جس دن میں آپ کو کوئی نامناسب کام کہتا آپ وہ ڈائری میرے ہاتھ پکڑاتے اور کہتے کہ یہ ڈائری تم نے مجھے دی تھی پکڑو اور یہاں سے باہر نکلو پھر مجھے بھی پتا چلتا کہ میں کون ہوں
یہ سُن کر انہوں نے ڈائری قبول کر لی اور پھر میری اُن کے ساتھ اتنی دوستی ہو گئی کہ ہمارا ایک “ساتھ” ہی بن گیا.
کافی عرصہ کے بعد پھر جب میرے مقابلے میں ایک دکان کھل گئی تو ایک دن اُن کے اکاؤنٹنٹ نے مجھے بتایا کی آپ کا کمپیٹیٹر آج اسکول آیا تھا اور ڈائرکٹر صاحب سے ملا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا سارا کام ماجد صاحب کے ساتھ ہے تو وہ بولا کہ ہم بھی مارکیٹ میں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا اگر آپ مارکیٹ میں آئے ہیں اور کام کرنا چاہتے ہیں تو کام کرنا سیکھیں اور اگر آپ کام کرنا سیکھنا چاہتے ہیں تو ماجد صاحب کے پاس جائیں
اُن کے یہ الفاظ میرے لیے بہت بڑا اعزاز تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidمیں یہ ڈائری واپس نہیں لے کر جاؤں گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *