وہ صحیح ہو گیا تھا

وہ بڑا ہو رہا تھا. کیا ہی وقت تھا. جو اس کے جی میں آتا تھا وہ کرتا تھا. جی چاہتا تو کچھ کرتا, جی چاہتا تو نہ کرتا. جی چاہتا تو سویا رہتا, جی چاہتا تو جاگتا رہتا. کبھی لڑتا تھا, کبھی جھگڑتا تھا وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر. کبھی کھانے پر, کبھی پہننے پر. کبھی کہیں جانے پر اور کبھی نہ جانے پر. بعض اوقات بد تمیزی بھی کرتا تھا.
ایک ہی شخص تھا جو یہ سب کچھ برداشت کرتا تھا. وہ تھی اس کی ماں. ہر وقت اسے مناتی تھی. وہ تو اس کی منتیں ہی کرتی رہتی تھی. اسے ہر ایک سے بچاتی تھی. ہر وقت اس کے ساتھ رہتی تھی, گرمی میں سائے کی طرح اور سردی میں دھوپ کی طرح. کبھی اسے دیکھ کر مسکرا دیتی, کبھی پریشان ہو جاتی. کبھی اسے صحیح سمجھتی تھی کبھی صحیح نہیں سمجھتی تھی. مگر دنیا کی نظر میں تو وہ بالکل بھی صحیح نہیں تھا.
پھر اچانک ایک دن سب کچھ بدل گیا. اس کی دنیا ہی بدل گئی. اس نے ضد کرنی چھوڑ دی تھی. لڑنا بھی چھوڑ دیا. بد تمیزی تو بالکل بھی نہیں کرتا تھا لوگ کہتے ہیں وہ بالکل صحیح ہو گیا تھا. مگر دل کی بات کوئی کیا جانے اور صحیح ہونے کی وجہ لوگ کیا سمجھیں, پوچھنے والی ہی نہ رہی تھی.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidوہ صحیح ہو گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *