پھر میری دنیا ہی بدل گئی

میرے ایک دوست انگلینڈ میں رہتے تھے انہوں نے مجھے ایک دن مجھے ٹیلی فون کیا اور کہا کہ میرے چچا جو کہ میرے سُسر بھی ہیں انہوں نے ایک کتاب لکھی ہوئی ہے میں وہ کتاب چھپوانا چاہا ہوں وہ کینسر کے مریض ہیں ہم لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کتاب اُن کی زندگی میں آ جائے وہ کتاب میں آپ کو بھیج دیتا ہوں جتنا جلدی ہو سکے اُس کو چھاپ دیں
کچھ دن کے بعد مجھے کتاب مل گئی. کتاب کیا تھی بہت پرانے بوسیدہ کاغذ تھے جو پرانے ہونے اور خستہ ہو نے کی وجہ سے ہاتھ لگانے پر ٹُوٹتے جاتے تھے مگر لکھا بہت اعلئ تھا
ہم لوگوں نے بڑی محنت کے ساتھ پہلے اُس کو نقل کیا پھر باقاعدہ پبلش کر کے کتابیں انہیں بھیج دیں.
کچھ عرصے کے بعد مصنف کے والد فوت ہو گئے. وہ پاکستان آۓ تو میں اُن کے ساتھ تعزیت کے لیے اُن کے گاؤں گیا ان کا گاؤں اُس وقت لالہ موسیٰ سے اڑھائ گھنٹے کی مسافت پر چھمب جوڑیاں کے پاس تھا تعزیت سے فارغ ہوئے. تقریبا” مغرب کا وقت ہونے والا تھا کہ میں نے اُن سے اجازت مانگی اور پُو چھا کہ واپسی پر راستے میں کوئی خطرہ تو نہیں تو بولے کہ یہ سارا علاقہ چوروں اور ڈاکوؤں کا ہے مگر آپ کو کوئی خطرہ نہیں اگر آپ کو کوئی چور یا ڈاکُو ملے تو آپ اُسے صرف بتا دیں کہ آپ شاہ صاحب کے گھر تعزیت کے لیے آئے تھے تو وہ آپ کو لالہ مُوسیٰ، ہائی وے تک حفاظت کے ساتھ چھوڑ کر آئے گا
میں نے تو خیر رات کو جانے کا ارادہ ترک کر دیا دوسرا میں نے اُن سے پوچھا کہ ہہ بات مجھے سمجھ نہیں آئی تو وہ بولے کہ یہاں پانچ گاؤں اور اُن کے ساتھ ساری زمین ان کے والد کی تھی جو اب اُن کی وفات کے بعد ہم بہن بھائیوں کے حصے آئے گی انہوں نے ساری عمر اس علاقے کے لوگوں کی خدمت میں گزار دی ایک شفاخانہ بنایا اور ایک مدرسہ اور ہر انسان کو مفت دوا دارو دیا اور اُن کے بچوں کو مفت تعلیم دی اس لیے اس علاقے کے علاوہ آس پاس کے علاقے کے لوگ بھی اُن کی عزت کرتے تھے
پھر انہوں نے اپنی اور اپنی لکھی ہوئی کتاب کی کہانی سنائی
کہنے لگے کہ جب میرے والد نے سارے علاقے کے بچوں کو پڑھایا تو اپنے بچوں یعنی ہمیں بھی پڑھایا اور مجھے تو پڑھنے کا بالکل بھی شوق نہیں تھا نہ روئتی کتابوں کا اور نہ مذہبی کتابوں کا.
پہلے تو میرے ابا نے مجھے پیار سے پڑھانے کی کوشش کی جب میں نہ مانا تو انہوں نے سختی کی پھر بھی جب میں ٹس سے مس نہ ہوا تو ایک دن میرے ساتھ وہ بہت ناراض ہوئے اور مجھے اپنے کمرے سے باہر نکال دیا اور آئیندہ بھی کمرے میں آنے سے منع کر دیا وقتی طور پر مجھے دکھ ہوا مگر روز روز کی ٹینشن ختم ہوگئی تھی
ان دنوں مجھے کالج میں جاتے ہوۓ کچھ عرصہ ہی ہوا تھا. روٹین یہ تھی کہ صبح کالج جاتے اور کالج سے آنے کے بعد ہم سب دوست شکار پر چلے جاتے یہ سارا پہاڑ کا علاقہ ہے شکار بہت تھا اور شکار کا شوق مجھے اتنا تھا کی اُس کے لیے میں نے کُتے پالے ہوئے تھے اور انیس بندوقیں اُس وقت کی ابھی بھی میرے پاس اس گھر میں موجود ہیں
ایک دن ہم سب دوست کالج سے آکر خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ ہمارا ایک دوست بھاگا بھاگا آیا اور بولا ” شاہ جی ٹاہلی تے قُمریاں دا اک جوڑا بیٹھا اے” (شاہ جی شیشم کے درخت پر قمریوں کا ایک جوڑا بیٹا ہوا ہے) میں نے دو نالی بندوق اٹھائی، دوستوں کو ساتھ لیا اور ہم سب اُس کے پیچھے پیچھے چل دئے
گاؤں سے کچھ دور جاکر دیکھا تو واقعی ٹاہلی کے اوپر قمریوں کا ایک بہت خوبصورت جوڑا بیٹھا ہوا تھا میں نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو خاموش کرایا اور بڑے اسٹائل کے ساتھ زمین کی طرف دیکھتے ہوۓ بندوق ہوِا میں اٹھا کر فائر کر دیا ساتھ ہی میں نے ایک دم سے اوپر دیکھا وہ قُمریاں اُڑیں اور میں نے فالائنگ شاٹ کھیلا ایک قمری کو گولی لگی اور وہ نیچے گر گئی ایک لڑکے نے بھاگ کر اُسے پکڑ لیا دوسری قُمری نے ایک چکر کاٹا اور وہ واپس آ کر اسی درخت کی اُسی ٹہنی کے اوپر بیٹھ گئی اب میں نے فلائنگ شارٹ نہیں کھیلا بلکہ وہیں سے کھڑے کھڑے اُس کا نشانہ لیا اور فائر کر دیا گولی اُسے لگی اُس نے اپنے پنجے اُس ٹہنی پر گاڑ لیے اور بے جان سی ہو کر لٹک گئی ایک لڑکا درخت پر جڑھا اُس نے اسے پکڑ کر نیچے پھینکا اور ساتھ ہی آواز لگائی “شاہ جی ایہدے دوبچے وی نیں” (شاہ جی اس کے دو بچے بھی ہیں) اب تک تو ہم بہت خوش تھے مگر اُس کی آواز سننے کے بعد میرا دل بیٹھ گیا اُن کے ماں باپ کو تو ہم مار چُکے تھے. اب میں نے بڑے بجھے دل کے ساتھ اُسے کہا کہ انہیں نیچے لے آؤ. وہ بچے بیچے لایا وہ بالکل ہی چھوٹے تھے میرا دل اور افسُردہ ہو گیا میں انہیں اپنے گھر لے آیا آ کر چاول ابالے کھچڑی بنائی اُن کی چُونچیں کھولیں اور اُن کے منہ میں ڈالے. رات کو مجھے نیند نہ آئی انہیں اُٹھ اُٹھ کر دیکھتا رہا اور روتا رہا دو دن کے بعد وہ بچے مر گئے پھر میری دنیا ہی بدل گئی میں نے شکار چھوڑ دیا دوستیاں چھوڑ دیں سارا دن اپنے کمرے میں پڑا رہتا اور انہیں بچوں کے بارے میں سوچتا رہتا
کچھ دن کے بعد میں اپنے والد کے پاس گیا اُن سے معافی مانگی اور خود کہہ کر اُن سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا فقہ پڑھی حدیث پڑھی پھر میں گھر سے نکل گیا مجھے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ مُجھے کہاں جانا ہے. میں کچھ تلاش کر رہا تھا کبھی کسی کے پاس جاتا کبھی کسی کے پاس. کرتے کرتے میں انگلینڈ پہنچ گیا وہاں ایک مسجد میں میں سات سال تک درس دیتا رہا اس دوران جس وقت مجھے جو سمجھ آتا میں لکھ لیتا، تو یہ کتاب بنی اور یہ کتاب ہی میری زندگی ہے.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidپھر میری دنیا ہی بدل گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *