پیار

پیار بہت ہی پیاری چیز ہے. یہ انسان کے بس کی بات نہیں ہے. پیار فطرت کا کام ہے. پیار دنیا میں صرف دو ہی جگہ پر آیا ہے. ایک بچہ پیدا کرنے کا افتتاح کرنے کے لیے – میاں بیوی کے درمیان, یا اور درست کہیں گے تو نر اور مادہ کے درمیان. دوسرے ماں باپ اور بچے کے درمیان – بچے کی بے پناہ حفاظت کے لیے.

جب نر اور مادہ کے درمیان پیار آتا ہے تو اُن کے دل, دماغ اور جسم کے ہر حصے میں پیار بھر جاتا ہے. اُن کی نظر میں بھی. اُن کی نظر پیاری ہو جانے کی وجہ سے لگتا ہے کہ پُوری دنیا میں پیار آگیا ہے. جیسے خوشبو ہوا کی ساتھ مل پورے ماحول کو بدل دیتی ہے. اصل میں ماحول وہی رہتا ہے ہم بدل جاتے ہیں. ہم پیار میں آجاتے ہیں. جبکہ خوشبو بھی تو پیار ہی سے پیدا ہوتی ہے. اگر ہم غور کریں تو پھولوں کے یہ خوبصورت رنگ اور خوشبو ہمارے لیے نہیں پیدا ہوتے یہ تو اس پودے کا بچہ پیدا کرنے کے لیے فطرت پیار سے پیدا کرتی ہے تاکہ حشرات خوشبو سونگھتے ہوئے اور اُن رنگوں پر مرتے ہوئے پھولوں کی طرف آئیں اور نیکٹر کے لیے اس جگہ پر بیٹھیں جہاں پولن گرین اور اوّری ہے. وہاں بیٹھ کر پولن گرین کو اوّری کے اوپر گرائیں تاکہ ان کا بچہ یعنی بیج پیدا ہو. وہ معاوضے کے طور پر رس چوسیں اور اڑ جائیں. ہمیں تو فطرت نے آنکھ اور ناک ایسے دے دیے ہیں کہ یہ ہمیں اچھے لگتے ہیں بلکہ یوں لگتا ہے کہ ہمارے لیے ہی بنے ہیں. سائنسدانوں نے سائبیریا میں بتیس ہزار پرانے گلہریوں کے چھپائے ہوئے بیج دریافت کیے ہیں اور جب انہیں سازگار ماحول میں رکھا گیا تو وہ اُگ گئے. اُن کو پھول, پھل اور بیج لگے. فطرت نے اُن کی اتنا محفوظ بنایا اور اتنی حفاظت کی کہ انہوں نے اُگنے کے لیے بتیس سال تک سازگار ماحول کا انتظار کیا. پیار صرف انہی جگہوں پر ہے وہ انسان ہوں, جانور ہوں یا پودے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidپیار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *