کام کی بات

سب جانتے ہیں کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دانے دانے پر مہر لگی ہوتی ہے اور وہ پتھر میں کیڑے کو بھی دیتا ہے ۔ اصل میں انسان کا رزق خود اس کے لئے بے چین ہے اور اسے شدت سے تلاش کر رہا ہے۔ اگر انسان کسی کمرے میں تالا لگا کر بیٹھا ہوا ہے تو وہ دروازہ توڑ کر آتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دانے دانے پر مہر لگی ہے اور ہمارا رزق اُسی نے دینا ہے تو ہم کسی نوکری کیوں کر رہے ہیں۔ کوئی شخص ایک کمپنی کے لئے کام کیوں کر رہا ہے۔ ایک ٹیچر سکول کے لئے کام کیوں کرتی ہے۔ اس کی خیال یوں سمجھیں کہ ایک ٹیچر ایک سکول میں کام کرتی ہے اُس سکول کی کئی برانچیں ہیں اور ایک ہیڈ آفس بھی ہے۔ جس برانچ میں یہ ٹیچر کام کرتی ہے کی تنخواہ پرنسپل دیتی ہے اور یہ تنخواہ ہیڈ آفس سے آتی ہے۔ وہ ہیڈ آفس کے چیک لے کر ٹیچر کو دے دیتی ہے سکول ہیڈ آفس کی ہدایات کے مطابق کام کر رہا ہے۔ وہی اُسے بتاتا ہے کہ ٹیچرز نے آنا کس وقت ہے جانے کا وقت کیا ہوگا۔ پڑھانا کیا ہے بچوں سے اور ان کے والدین سے بات کس طرح کرنی ہے وغیرہ وغیرہ۔
یعنی سارا کام ہیڈ آفس کا ہے اور تنخواہ کا چیک بھی وہیں سے آتا ہے اوراسکول کی یہ برانچ ہیڈ آفس ہی کی ملکیت ہے۔ اگر اسی مثال کو سامنے رکھیں اور دیکھیں کہ اصل میں یہ تنخواہ ہیڈ آفس سے نہیں آرہی ۔ رزق کا تو اللہ مالک ہے اُسی سے آرہی ہے اور اسی طرح کام بھی ہیڈ آفس کا نہیں ہے وہ بھی اللہ کا ہے اُس نے ہمیں یہ کام کمپنی کے ہیڈ آفس کے ذریعے سے بھیجا ہے اور ساتھ ہی رزق بھی اُس کے ذریعے سے بھیجا ہے۔ پھر غور کریں کہ یہ زمین کس کی ملکیت ہے۔ اللہ کی وہ ہمیں رزق دے رہا ہے ہم اُسی کی ملکیت پر کام کر رہے ہیں اور کام بھی اُسی نے بھیجا ہے اور اس کا کام کبھی نہیں رکتا۔ اگر کوئی کام کم کرنا شروع کر دے یا اس میں بے ایمانی شروع کر دے تو کام دوسری کمپنی یا شخص کے پاس شفٹ ہو جاتا ہے۔ یہ کام اُس نے پروگرام کیا ہوا ہے جو کہ ہونا ہی ہوتا ہے۔ اس کا کام رکے گا نہیں اگر ہم اسے پیار سے کریں گے تو وہ ہم پر اور زیادہ مہربان ہو گا اگر کوئی ہمارے پاس آ کر یہ کہے کہ میں اللہ کا کام آپ کے پاس لے کر آیا ہوں اور اُس نے آپ کے لئے یہ رزق بھی بھیجا ہے تو ہم کام بھی پیار سے کریں گے پیسوں میں بھی بحث نہیں کریں گے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidکام کی بات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *