انسپریشن اور ایپریسیشن کی طاقت

“کھٹی میٹھی زندگی”

ہماری فیملی کے بہت ہی قریبی دوستوں میں سے دو بہنیں بھی ہیں جن کے بہت ہی اعلیٰ قسم کے کچھ اسلامی تعلیمات کے اسکُول ہیں جو وہ دونوں مِل کر چلاتی ہیں. ہم جب سے انہیں ملے ہیں آپس میں ہمارے باہمی صلاح مشورے ہوتے رہتے ہیں
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب اُن دونوں میں سے بڑی بہن کینڈا پڑھنے کے لیے چلی گئیں اور چھوٹی نے اسکول سنبھال لیا. اُس دوران ایک دن انہوں نے مجھے ٹیلی فُون کیا اور کہا کہ مجھے آپ سے کچھ مشورہ کرنا ہے مجھے وقت بتا دیں وقت طَے ہوا، وہ آگئیں اور ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رہے جب بات ختم ہوئی تو کہنے لگیں ماجد صاحب آپ کے پاس کوئی کاغذ ہو گا. میں نے چند اوراق اُن کی طرف بڑھا دیے. وہ کچھ لکھنا شروع ہو گئیں پھر فوراً ہی بولیں سوری ماجد صاحب میں جب بھی آپ سے ملتی ہوں تو آپ کی باتوں سے بہت انسپائر ہوتی ہوں اور گھر جا کر ساری باتیں لکھ لیتی ہوں آج بات کچھ لمبی ہو گئی میں اس لیے یہاں لکھ رہی ہوں کہ بھول نہ جاؤں اور پھر آپا بھی کہتی ہیں کہ یہ باتیں مجھے بھی بتا دیا کرو
میں نے انہیں کہا کہ آپ نہ لکھیں یہ ساری باتیں میں خود ہی آپ کو لکھ دوں گا
پھر میں روزانہ تھوڑا تھوڑا لکھنے لگا انہی دِنوں ہمارے دفتر کی ویب سائٹ بن رہی تھی شام کو ویب سائٹ بنانے والے صاحب آئے تو میں نے انہیں کہہ کر اپنی ویب سائٹ بھی بنوا لی. تب مجھے کمپیوٹر پر اُردو لکھنی نہیں آتی تھی اس لیے میں نے انگریزی میں لکھنا شروع کیا اور کچھ دنوں میں چند آرٹیکل لکھ کر اُس پر اپ لوڈ کر کے انہیں بتا دیا اور ساتھ ہی کہا کہ آپا کو بھی اِس ویب سائٹ کا ایڈریس کینیڈا بھیج دیں
کافی دنوں کے بعد اُس پر باہر کسی مُلک سے ایک کومینٹ آ گیا اور آہستہ آہستہ بہت سی جگہوں سے کومینٹس آنے لگے جس بھی ملک سے کومینٹ آتا اس کے ساتھ اُس ملک کا ایک چھوٹا سا جھنڈا بھی آ جاتا اور میں بچوں کی طرح جھنڈے گنتا رہتا اور انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہتا اور پھر اپنے دوستوں کو بھی دکھاتا اِس طرح مجھے مزید لکھنے کی رغبت ہوتی گئی. پھر ایک دن ایک ایسا کومینٹ آیا جِس نے کمال کر دیا اور اُس کی وجہ سے میں نے آدھے گھنٹے کے اندر اندر ایک اور آرٹیکل لکھ کر آپ لوڈ کر دیا اور وقتاً فوقتاً مزید لکھنے لگا اُس کے بعد ایک دِن میں نے موبائل پر اردو بھی لکھنا سیکھ لیا اور اسی سائٹ پر اپنی شاعری اور بلاگ اَپ لوڈ کرنا شروع کر دیا.
اگر اُس دن وہ مجھے نہ ملی ہوتیں اور اُن کے لکھنے کا یہ واقعہ پیش نہ آتا تو شائد یہ ویب سائٹ آج بھی نہ بنی ہوتی اور کسی نے اِس طرح کومینٹ نہ کیے ہوتے تو اِس سائیٹ پر اتنا کچھ کبھی نہ ہوتا.
مجھے اِن باتوں کی وجہ انسپریشن اور ایپریسیشن کی طاقت بہت بہتر طور پر سمجھ آئی اور میں نے اپنی زندگی میں ان چیزوں کو دوسروں کے لیے مزید بڑھا دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
W Iqbal Majidانسپریشن اور ایپریسیشن کی طاقت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *