فرسٹ ائیرمیں داخلہ، کالج کی فضا، کھِلا کھِلا ماحول، بھینی بھینی سی خوشبُو، پھیلی پھیلی سی روشنی، اُڑتے پھِرتے پنچھی، نئی نئی سی دوستی۔
ایک ہی بنچ ایک ساتھ بیٹھنے سے بات چیت شروع ہو گئی ،ٹھاٹھ باٹھ والا لڑکا تھا، امیروں کی سی چال ڈھال، نئے فیشن کے کپڑے، نئے ماڈل کی موٹر سائیکل، نِت نئے انداز
دوستی اور زیادہ ہوئی تو بات گفتگُو سے آگے بڑھی۔ ہفتے بھر کے بعد ایک پیریڈ خالی نکلا تو بولا چل یار تجھے چائے پلا کر لاتا ہوں۔ اپنی موٹر سائیکل نکالی ، سیٹ صاف کی مجھے پیچھے بٹھایا اور فیروزپور روڈ پر شمع کے قریب چائے کے ایک سٹال کے قریب بریک لگائی۔ سٹال والے نے اُسے کھڑے ہو کر سلام کیا ۔ سلام کا جواب دینے کے بعد اُس نے کہا ڈبل جسے میں نہ سمجھا۔ مگر خاموش رہا۔
پھِر اُس نے اپنا بیگ کھولا اُس میں سے شیشے کی ایک خوبصورت سی بوتل نکالی اور اُس بوتل میں سے تھوڑی سی چائے کی پتی نکال کر اُسے دی اور مجھے بتایاکہ کینیا کی یہ خاص چائے پودں کی کونپلوں کی ہے ۔ پھر اُس نے ایک اور ڈبی نکالی اور اُس میں سے دو بڑے سائز کی سبز الائچیاں نکال کر دیں ۔ اُس کے بعد اُس نے مصری کی چند ڈلیاں نکال کر خود ہی چائے میں ڈال دیں۔ چائے پکتی رہی۔ کچھ دیر کے بعد چائے بنانے والےنے آنچ دھیمی کر دی اور چائے کڑھنا شروع ہو گئی۔ جب کڑھ کڑھ کر آدھی رہ گئی تو اُس نے اُسے دو کپوں میں ڈال دیا۔ اُس وقت مجھے ڈبل کی بھی سمجھ آ چکی تھی ۔ پھِر اس نے ایک اور ڈبی میں سے زعفران کے چند ریشے نکال کر بہت نزاکت سے چائے کے اوپر بکھیر دیےاور سٹال والے نے اُس کے اوپر ملائی کی ایک چھوٹی سی تہہ جما دی ایک دفعہ پھر بیگ کھُلا اور اُس نےملائی کے اوپر تھوڑا سا کُٹا ہوا پستہ پھیلا دیا۔
چائے پینے کے بعد اُسے چائے کے پیسے دیے اور اُپر سے دس روپے ٹپ دی جو اُس زمانے میں کوئی دل والا ہی دیتا تھاپھر میری طرف مُڑا ، مجھے گھُمایا اور میری پینٹ کی جیب میں سے دس روپے نکال کے اُسے دیتے ہوے بولا یہ اِس کی طرف سے۔اُس کی زندہ دِلی پر میں مسکرا دیا۔
اُس دن کے بعد میں نے دس دس کے نوٹ جیب میں رکھنے شروع کے دیے ، اِس ڈر سے کہ اگر جیب سے دس کا نوٹ نہ نکلا تو وہ پچاس کا ہی نکال کر اُسے پکڑا دے گا۔
میں اُس سے بہت امپریس ہوا۔ دو سال ہم دونوں ہم جماعت رہے۔ اور کھانے پینے کا سلسہ اِسی طرح چلتا ریا۔ پھر امتحان آگئے، کالج سے فارغ ہوئے تو ہم علیجدہ بھی ہوگئے اور رابطہ بھی ٹُوٹ گیا۔
بہت سالوں کے بعد میں نے اُسے ایک مارکیٹ میں دیکھ لیا۔ سادہ سا لگا، پہلے جیسا نہ تھا۔ہم ملے تو محبت سے بغل گیر ہو گیا۔ ہم نے ایک دوسرے کا حال احوال جانااور وہیں کھڑے کھڑے باتیں کرنا شروع ہو گئے۔ باتیں کرتے کرتے کہنے لگا یہ ساتھ میرا گھر ہے آو نا گھر چلتے ہیں ۔ گھر پہنچ کر اُس نے ساری فیملی سے میرا تعارف کرایا جو اُس کی باتوں اور ہماری کہانیوں سے مجھے پہلے سے ہی جانتے تھے۔ ساتھ ہی اپنی بیگم سے بولا چائے بنا لائیں۔ چائے کا سُن کر مجھے پرانا زمانہ یاد آ گیا کچھ دیر بعد اُس کی بیگم چائے رکھ کر کسی کام سے چلی گئیں ۔ میں نے چائے ایک گھونٹ بھرا اور خاموشی سے پینے لگا۔ مجھے خاموش دیکھ کرہنس کر کہنے لگا چائے والا وہ بیگ اب بھی میرے گاڑی میں ہوتا ہے چلیں گے کسی دن وہی چائے پینے۔ اُس کی زندہ دلی ابھی بھی ویسے کی ویسی ہی تھی۔
1 Comment
A heartfelt example of modern Urdu prose, capturing simple yet meaningful moments with warmth and sincerity. It beautifully reflects friendship and nostalgia in an accessible style.