ایک دن صبح کے وقت کسی جگہ میری میٹنگ تھی۔ میں تیار ہو کر گھر سے نکلنے لگا۔ شیشے میں دیکھا تو میری ٹرمنگ نہیں ہوئی تھی میں نے سوچا رستے میں کہیں سے کروا لوں گا۔
مین مارکیٹ پہنچا تو دیکھا کہ ایک دکان کھلی ہے۔ دکان صاف ستھری تھی باربر بھی دھلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ میں اندر گیا تو اُس نے مجھے سیٹ پر بٹھا دیا۔
ابھی اُس نے کام شروع بھی نہ کیا تھا کہ ایک چھوٹی سی مکھی کہیں سے آ گئی اور میرے آس پاس اڑنے لگی. اڑتے اڑتے کبھی وہ میرے منہ پر بیٹھتی اور کبھی کان پر ، میں اور باربر دونوں ہی اُسے اڑانا شروع ہو گئے۔ کبھی میں اُسے اڑاتا اور کبھی باربر ، مگر وہ اتنی ڈھیٹ تھی کہ پھر آ کر بیٹھ جاتی۔
عجیب تماشا سا بن گیا۔ وہ جا ہی نہیں رہی تھی۔ پھر باربر نے اُسے اڑانے کے لیے اپنا ہاتھ ہوا میں لہرایا اور ساتھ ہی بولا پرے مر ، اِدھر کیا ڈھونڈ رہی ہے؟
تو میں نے اُسے کہا مجھے پوچھو! اصل میں یہ مکھی میرے اندر جانا چاہتی ہے اور اندر جانے کا رستہ ڈھونڈ رہی ہے۔ میرا اندر صاف نہیں ہے۔ ویسے تو دیکھو میں نہا دھو کر آیا ہوں۔ کپڑے بھی صاف ستھرے پہنے ہیں یہاں کیا ملے گا اِسے۔ یہ مکھی تب ہٹے گی جب اندر صاف ہو گا
اُسی لمحے دو شعر ہو گئے جو میں نے فورا” ہی لکھ لیے۔ وہ یہ تھے
ست پانی توں نہاتا دھوتا ، لشکن تیرے لیڑے
مکھیاں تیرے اّتے آون ، کھولن تیرے بیڑے
اندر جان دا راہ اوہ لبھن ، اندر تیرا کالا
اندر صاف توں کر لے ماجد ، لہا دے سارا جالا
3 Comments
This piece invites deep reflection and inner stillness
very informative articles or reviews at this time.
I found this article really useful, I’ll be sharing it!