Author: W Iqbal Majid
کِسی دوست کی طرف سے کپڑے پر پرنٹ آرٹ کا تحفہ ملنے پر Received your “token of remembrance’ with gratitude but what I found, is really amazing ایک نایاب سی چیز ہے جو کسی اور دنیا سے آئی ہے ، نہ جانے کیا ، جو دیکھیں تو دیکھتے ہی رہ جائیں ، جو سمجھیں تو سمجھ نہ پائیں ، بس اُسی میں گم ہو جائیں۔ ، آرٹ کا کوئی شاہکار ہے ، کبھی لگے کہ کوئی راز ہے یا تخلیق کا نیا انداز ہے یا لکیروں میں چھپا کوئی ساز ہے جب بھی دیکھا ، الگ نظر آیا ، جیسے…
کوئی اُس سے زیادہ دیر ناراض رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ پتا نہیں کیا جادو تھا اس کے پاس۔ یہی پتا کرنے کے لیے میں اُس کے پاس چلا گیا۔ جب پوچھا تو بولا کہ میں ناراض دوست کی ناراضی کا جواب ناراضی سے دینے کی بجائے میں سب سے پہلے وہ وجہ معلوم کرتا ہوں جس وجہ سے وہ ناراض ہوا پھر اُس وجہ کو دُور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اگر وجہ نہ پتا چلے تو میں پیار بڑھا دیتا ہوں اور ہاں اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ دھیان میں انّا پر رکھتا ہوں کیوں کہ…
جب اللہ تعالیٰ کسی پر اپنی رحمت کرتا ہے تو وہ اُس کی سوچ بدلتا ہے۔ اس کی سوچ بدلنے سے اُس کی عادتیں اور روًیہ بدلتے ہیں اُس کی سوچ ایسی ہو جاتی ہے کہ جس سے ہر ایک کو فائدہ پہنچاتا ہے اور اُن کی راہ نمائی کرتا ہے. جس سے اُسے ہر کوئی اُسے پسند کرنے لگتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اُس پر اور زیادہ رحمت کرتا ہے تو اُسے اچھے لوگوں سے ملا دیتا ہے اور اُس کی زندگی شاندار ہو جاتی ہے۔ ذرا سوچیں کہ اگر وہ اپنی رحمتوں کی بارش کر دے اور اپنی…
دعاؤں میں بہت طاقت ہے. یہ مانگنے سے بھی پوری ہوتی ہیں اور بغیر مانگے بھی، مگر سب سے زیادہ طاقت اُس دعا میں ہے جو کسی کو بغیر مانگے اپنا اثر دکھاتی ہے. یہ دعا دل سے نکلتی ہے اور دل خدا کا گھر ہے۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا کے گھر سے دعا نکلے اور اُس میں اثر نہ ہو یا وہ زندگی ہی نہ بدل دے یا دنیا ہی نہ بدل دے۔ اگر ہم عملی طور پر دیکھیں تو ہر سوچ یا ہر عمل کا ماحول پر اثر ہے۔ کبھی ایک دم سے، کبھی…
وہ بڑا ہو رہا تھا۔ کیا ہی وقت تھا. جو اس کے جی میں آتا تھا وہ کرتا تھا۔ جی چاہتا تو کچھ کرتا، جی چاہتا تو نہ کرتا۔جی چاہتا تو سویا رہتا، جی چاہتا تو جاگتا رہتا۔ کبھی لڑتا تھا، کبھی جھگڑتا تھا وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر۔ کبھی کھانے پر،کبھی پہننے پر،کبھی کہیں۔ جانےپر اور کبھی نہ جانے پر،بعض اوقات بد تمیزی بھی کرتا تھا۔ ایک ہی شخص تھا جو یہ سب کچھ برداشت کرتا تھا۔ وہ تھی اس کی ماںہر وقت اسے مناتی تھی۔ وہ تو اس کی منتیں ہی کرتی رہتی تھی۔ اسے ہر ایک…
جھوٹ اور دھوکے کی دکان جگہ جگہ لگی سجی ہوئی ہے۔سچ کی دکان کہیں کہیں ملے گی اور وہ بھی سمجھ داروں کو۔ جھوٹ بہت سستا ہے جب کہ سچ اور سچ کا سامان بہت مہنگا ہے. اول یہ کہ عام انسان کو یہ سمجھ ہی نہیں آتا دوسرے یہ کہ اگر سمجھ آ بھی جائے تو اس کے لیے اسے قبول کرنا بہت مشکل ہے۔ مگر فائدے میں وہی ہیں جو سچ کو سمجھتےہیں، قبول کرتے ہیں اور اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔
خوبصورتی کو اپنے وجود کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی آنکھ اسے اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ خوبصورتی کو یہ احساس کہ وہ نہیں رہی اسی وقت ہی ہو سکتا ہے جب وہ خود تو ہو مگر اسے دیکھنے والی وہ آنکھ نہ رہے جس کا وہ اعتبار کرتی تھی اور دوسری کسی آنکھ پر وہ اعتبار کرنا نہ چاہتی ہو. ایسے حالات میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو اللہ تعالیٰ اُسے صبر دے دے یا وہ اسے کسی دوسری آنکھ کا اعتبار دے دے کہ اسے اپنے وجود کا احساس ہونے لگے۔
وقت واقعی بہت قیمتی ہے مگر اس کی قیمت کا حساب عام طور پر دماغ اور جسم کی کارکردگی سے ہی لگایا جاتا ہے وہ بھی روپوں پیسوں میں. دل سے حساب لگانا تو ہم بھول ہی گئے ہیں۔ ہم نے اپنے دماغ اور جسم کو ایسا بنا لیا ہے جیسے کوئی مشین ہو جس کے شور میں ایک ہی بات سمجھ آتی ہے وقت بہت قیمتی ہے وقت بہت قیمتی ہے ہر منٹ کے پیسے ہر سیکنڈ کے پیسے، ان پیسوں سے ہم زندگی کی سہولتیں تو لے سکتے ہیں زندگی کے مزے نہیں۔زندگی کی سہولتوں اور زندگی کے…
زندگی پیار سے وجود میں آئی ہے دنیا محبت کے لیے بنی ہے اور اسی پر چلتی تھی زندگی مزے میں تھی اور دنیا خوش. پھر نہ جانے بیچ میں پیسا کہیں سے آ گیا یہ لوگوں کو اتنا دلکش لگا کہ وہ پیار اور محبت دونوں کو بھولنے لگے پھر انہوں نے اسی میں محبت ڈونڈھنا شروع کر دی اب پوری دنیا پیسے پر چلتی ہے زندگی اداس ہے اور دنیا نا خوش! ابھی بھی لوگ پیار اور محبت کو بھولے نہیں مگر اب وہ اسے پانا نہیں چاہتے خریدنا چاہتے ہیں اپنے پیسے سے مگر خرید نہیں پاتے…
سنا ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ بلا شبہ وہ بنتے تو آسمانوں پر ہی ہیں مگر ایک دوسرے کو ڈونڈھتے زمین پر ہیں۔ ایک دوسرے کو ڈونڈھ لینے کے بعد کئی جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں اور کئی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ پاتے. کیونکہ جوڑا تو ان کا بن چکا ہوتا ہے مگر نصیب میں اکٹھا رہنا نہیں ہوتا اور بعض اوقات جنہیں اکٹھا رہنا پڑتا ہے ان کا جوڑا نہیں ہوتا بس شادی ہوتی ہے وہ بھی زبردستی کی۔