ایک دوست کے فیس بُک پر پروین شاکر کا یہ شعر لکھنے پر
“عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کہ اب
وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد”
بے لاگ تبصرہ چشمِ پُر نم کے ساتھ
پروین شاکر کے اِس شعر کے اندر ایک کرب ہے۔ اُس کی کیفیت سمجھنے کے لیے شعر ملاحظہ فرمائیے
وہ یاد آتا ہے تو روتا ہے دل ، بھیگ جاتی ہیں پلکیں
تھک کے کام سے جب سوچتی ہوں شام کے بعد