ایک دِن شام کے وقت میں مین مارکیٹ گیا۔ گاڑی ایک جگہ پارک کی اور گاڑی میں بیٹھے بیٹھے کھانے کی کسی چیز کا آرڈر کر دیا اور لکھنے کے لیے کچھ سوچنے لگا مگر کوئی خیال نہیں سُوجھ رہا تھا۔
ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک سُرخ رنگ کی چھوٹی سی پرانی گاڑی میرے ساتھ ہی پارک ہو گئی۔ میں نے اُسے
ایسے ہی دیکھا جیسے ہم اپنے اِرد گِرد پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
اُس گاڑی میں پانچ لوگ تھے۔ پچیس تیس سال کی عمر کا ایک لڑکا جو گاڑی چلا رہا تھا۔ اُس کے ساتھ بیٹھی اُس کی ہم عُمر لڑکی جِس کی گود میں ایک شیر خوار بچہ تھا۔ اور پچھلی سیٹ پر اُن سے بڑی عُمر کی دو خواتین۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا لڑکا اپنی گاڑی سے نیچے اُترا اور اُس نے پچھلی سیٹ پر بیٹھی خواتین سے کچھ پوچھا پھر وہ اگلی سیٹ پر بیٹھی خاتون سے کچھ پوچھ کر وہ سامنے کون آئیس کریم کی دکان میں چلا گیا۔ اُس کے جانے کے بعد فرنٹ سیٹ پر بیٹھی خاتون اپنے بچے کو لے کر گاڑی سے باہر نکل آگئی اور اپنے بچے کی ہستی میں گُم ہو کر اُس سے کھیلنے لگی۔ اُسے ارد گرد کا کوئی ہوش نہ تھا۔ کچھ دیر بعد وہ لڑکا دونوں ہاتھوں میں ایک ایک کون پکڑے آیا اور اُس نے وہ دونوں کون گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھی خواتین کو دیں اور دوبارہ جاکر
اپنے لیے اور فرنٹ سیٹ والی خاتون کے لیے دو کون اور لے کر آیا۔
میں نے اندازہ لگایا کہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی خواتین اُس لڑکے کی بڑی بہنیں ہیں اور فرنٹ سیٹ والی لڑکی اُس کی بیوی۔ یہ سب دیکھنے کے بعد مجھے اپنے معاشرے کے حساب سے اُن کے بارے میں کچھ کچھ سمجھ آنے لگا۔ مگر اُس بچے کی ماں اِس سب کچھ سے
بے نیاز اپنے بچے کے پیار میں گم تھی۔ اُس ماں باپ اور بچے کو دیکھ کر میرا دل انسپائر ہو گیا اور شعر خود بخود ہی جنم لینا شروع ہو گئے
ہو گئی ساں میں ڈاڈھی اوکھی چھڈے جدوں میں ماپے
کچھ دکھ دِتے اِس دنیا نے کجھ پال لئیے میں آپے
فیر تے ساں میں مَردی جاندی ، دکھ سہندی کرلاندی
دکھ اولڑے میرے اینے سُکھ دی صورت نظر نہ اوندی
فیر اُس سوہنے سُن لئی میری ماں جو مینوں بنایا
خوشیاں تے میں سانبھ سکاں نہ جد گھر میرے توں آیا
دُکھاں نوں فیر میں کی سمجھاں فکراں نوں کی جاناں
خوشیاں دوڑن اگے پچھے بھری گود وِچ میری نیاناں
پالیا پوسیا چُمیا چٹیا تیتھوں کر دِتی جند واری
پڑھایا لکھایا ، سب کچھ دِتا فیر توں ماری اُڈاری
اُڈاری ویکھ اساں تاڑی ماری گیا توں تارے توڑ نوں
تارے توڑے اگے ودھیا چَن نوں پھڑیا بدلاں نال لڑیا
تارے توڑے چن نوں پھڑیا فیر نہ کوئی موڑن نوں
کئی کئی دن فیر شکل نہ ویکھی آس اڈیک رُلا دیتا
کی کرنے سی چَن تارے ایہہ اساں اپنا چَن گنوا دِتا
بُھل گیا توں ماں پیو اپنے دل کہے توں آ جا
جان تڑپدی میل نوں تیرے صورت تے دکھلا جا
تھوڑا جئیا ہُن ساتھ اساڈا اوڑک نوں ٹُٹ جانا
چھڈ دے سب کچھ ہُن توں اِس نوں توڑ نبھا جا
اُڈیک تیری وِچ مَر جاواں گے تُوں کلیاں بیھ کے رونا
ویلا تیرے ہتھ نہیں اونا اساں سہک سہک جا سَوناں