ایک دفعہ میں قبرستان میں اپنے ابا کی قبر پر فاتحہ پڑھ رہا تھا کہ ایک شخص جو کہ قریب ہی ایک قبر سے فاتحہ پڑھ کر فارغ ہُوا تھا میرے پاس آ گیا۔ وہ غم زدہ سا تھا ، آزُردہ ، رویا رویا سا۔ کہنے لگا کہ میرے ماں باپ کے حق اندر بھی دُعا کریں۔ ہم دونوں ہی اُن کی قبر پر چلے گئے اور اُن کے لیے فاتحہ پڑھی۔ فارغ ہونے کے بعد وہیں کھڑے کھڑے میں نے اُس سے پُوچھا کہ مجھے بتاؤ کچھ اپنے ماں باپ کے بارے میں۔ کہنے لگا کہ مُجھے اُن کے بارے میں نہ پُوچھیں ، میرے بارے میں پُوچھیں۔ میں اُس کی طرف دیکھ ہی رہا تھا ، کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دو فرشتے دے دیے تھے جو دنیا کے سامنے میرے لیے ایک ڈھال بنے ہُوے تھے ، مجھے اتنا پیار کرتے تھے کہ دن رات میرے ہی ناز اُٹھانے میں لگے رہتے تھے جیسے اُنہیں کوئی اور کام ہی نہ ہو۔ اور میں تھا کہ ہر وقت اُکھڑا اُکھڑا سا رہتا تھا ، رُوٹھا رُوٹھا سا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ، یہ کیوں کیا وہ کیوں نہیں کیا ، یہ کپڑے کیوں دیے وہ کیوں نہیں دیے۔ یہ کیوں پکایا وہ کیوں نہیں پکایا۔ دال کیوں نہیں بنائی اگر دال بن گئی تو چنے کی کیوں بنائی ماش کی کیوں نہیں بنائی اور بھی سب اِسی طرح اور وہ تھے کہ ہر وقت مجھے مناتے ہی رہتے تھے اور میں تھا کہ کِسی صورت مانتا ہی نہیں تھا۔ ہر وقت اُنہیں ستاتا ہی رہتا تھا بلکہ رولاتا رہتا تھا۔ کبھی پیار کی نظر سے تو دیکھا ہی نہیں تھا۔

پھر اچانک ایک دن وہ دونوں میرے ہاتھوں سے نکل گئے۔ تب مجھے پتا چلا کہ میری تو دنیا ہی وہ تھے۔ میری دنیا ہی اُجڑ گئی۔ ویران ہو گئی

اب مجھے نہ کل پڑتی ہے نہ چین آتا ہے ، روتا ہوں اور پچھتاتا ہوں ، اپنے آپ کو کوستا ہوں اُنہیں ڈھونڈتا ہوں کہ وہ ملیں تو اُن سے معافی مانگوں اور اُنہیں جی بھر کر پیار کروں۔ پر مجھے لگتا ہے کہ وہ مجھ سے ہی رُوٹھ کر کہیں چلے گئے ہیں ، مجھے چھوڑ کر ، مجھ سے بہت دور کہیں۔ کِسی اور دنیا میں ، جہاں اُنہیں کوئی دُکھ نہ دے۔

میں نے اُسے کہا کہ در حقیقت تم بھی اُن سے بہت پیار کرتے تھے۔ تمہیں علم نہ تھا اور آج بھی تم اُن سے بہت پیار کرتے ہو تبھی تو اُنہیں ڈھونڈ رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہیں وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں اور وہ تم سے خوش بھی ہو سکتے ہیں۔ پُوچھنے لگا کہ وہ کیسے۔ میں نے کہا کہ تم ہر وہ کام کرو جو وہ چاہتے تھے تم وہ بن جاؤ جو تمہیں وہ بنانا چاہتے تھے۔ بس وہ خوش ہو جائیں گے۔

یہ بات سُن کر اُسے کُچھ اطمینان سا ہو گیا ایک تسلی سی مل گئی۔ پُوچھنے لگا کہ کیا وہ واقعی خوش ہو جائیں گے؟ میں نے کہا ہاں مجھے اِس میں زرہ برابر بھی شک نہیں ہے۔ پھر وہ رونے لگا۔ میں نے اُسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔ وہ بہت رویا ، بہت رویا۔ کہنے لگا میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے اب میں وہی کروں گا جو وہ چاہتے تھے وہی بنوں گا جو مجھے وہ بنانا چاہتے تھے۔

پھر وہ اطمینان لیے وہاں سے چلا گیا جیسے کہ اُسے دو جہانوں کی دولت مِل گئی ہو۔

اس کے جانے کے بعد وہیں کھڑے کھڑے یہ شعر ہو گئے جو میں نے لِکھ لیے۔

جیوندی جانے قدر نہ کیتی سوچ کے دل ڈولدا
مُدتاں ہوئیاں مر گئے ماپے ہن مٹی پیا پھرولدا

مٹی دے وچ ماپے لبھدا رو رو ہنجُو سُٹدا
گُجھ گُجھ مٹی بھاری ہُندی جوں جوں اندر بولدا

اپنے آپ نوں ماردا ، رو رو گنڈھاں کھولدا
اندر و اندر ہیرا بندا جوں جوں اوہ دل رولدا

Share.

Leave A Reply

shop