جب اللہ تعالیٰ کسی پر اپنی رحمت کرتا ہے تو وہ اُس کی سوچ بدلتا ہے۔ اس کی سوچ بدلنے سے اُس کی عادتیں اور روًیہ بدلتے ہیں اُس کی سوچ ایسی ہو جاتی ہے کہ جس سے ہر ایک کو فائدہ پہنچاتا ہے اور اُن کی راہ نمائی کرتا ہے. جس سے اُسے ہر کوئی اُسے پسند کرنے لگتا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ اُس پر اور زیادہ رحمت کرتا ہے تو اُسے اچھے لوگوں سے ملا دیتا ہے اور اُس کی زندگی شاندار ہو جاتی ہے۔
ذرا سوچیں کہ اگر وہ اپنی رحمتوں کی بارش کر دے اور اپنی ساری رحمتیں کسی پر نچھاور کر دے تو کیا ہو گا تو ایسے میں رسول پاکﷺ کی زندگی کو نظر میں لائیےکہ لوگ تو اُنہیں ایسے بُرے ملائے کہ اُس وقت اُن جیسا جاہل، بے انصاف اور ظالم زمانے میں کوئی نہ ہو گا مگر اُس نے اپنی رحمت سے آپﷺ کا کردار ایسا بنا دیا کہ اُن بے انصاف معاشرے میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے منصف بنے جن کے عدل و انصاف کے درجے پر آج تک کوئی نہ پہنچ سکا اُسی جہالت بھرے معاشرے میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے دانش ور نکلے جن کی فہم و فراست اور علم و حکمت کی مثال آج بھی نہیں ملتی اُسی معاشرے کے لُوٹ کھسوٹ کرنے والے عام انسان کو ایسا کر دیا کہ وہ زکوٰۃ کے پیسے ہاتھ پر لیے پھرتا رہے اور اُنہیں لینے والا کوئی نہ ملے۔ وہ ایسے لوگوں کو ایسے اعلیٰ اور شان دار کردار کا مالک بنائے کہ وہ ساری دنیا پر چھا جائیں. سو جب اللہ تعالیٰ کسی عام انسان پر اپنی بہت زیادہ رحمت کرتا ہے تو اُسے رسولِ پاکﷺ کا پیروکار بنا کر اُن کے نقشِ قدم پر چلا دیتا ہے۔