فیس بُک پر ایک دوست کے کسی نامعلوم شاعر کا یہ
اچھا تو پھر بتا ئیے کیسا رہا سفر ؟
ٹوٹی کہاں پہ جوتیاں چھالے کہاں پڑے ؟
کس موڑ پہ جناب کی ہمت نے دم دیا ؟
صاحب کو اپنی جان کے لالے کہاں پڑے ؟
نا معلوم
آپ نے یاد دلائے چھالے اور یہ ٹوٹی جوتیاں
تو ہم نے بھی چونک کر اِدھر خیال کیا
احساس ہی نہ ہوا سارے رستے ٹپکتے لہو کا
یاد ہی نہ رہی اپنی ہستی ، عشق نے ایسا کمال کیا
ماجد