جب ہم جھُوٹ مارنا اورجھُوٹ بولنا میں سے صحیح کو اپنانے کے لیے کَسی ایک کا انتخاب کر رہے تھے تو ہمارے دماغ میں طعنہ آیا۔ سوچا کہ یہ بھی جان لیں کہ طعنہ مارنا درست ہے یا طعنہ دینا۔ سب سے پُوچھا، کہیں کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا، پتا کرتے کرتے ہم ایک پرانے استاد کے پاس پہنچے، اُن سے دریافت کیا تو کہنے لگے کہ طعنہ دینے کا تو ہمیں پتا نہیں ہم نے تو ہمیشہ لوگوں کو طعنے مارتے ہی سُنا ہےاور ہاں البتہ کبھی کبھی کوئی طعنہ پالنے والا بھی دیکھنے میں آ جاتا ہے۔

طعنہ پالنے کا سُن کر ہمارے کان کھڑے ہو گئے ہم تو طعنہ دینے اور طعنہ مارنے میں سے بایر نہ نکلے تھے کہ یہ بیچ میں طعنہ پالنا کہاں سے آ گیا۔ ہم انہی سوچوں میں گُم تھے کہ ہماری شکل دیکھ کر وہ استاد ہماری مُشکل بھانپ گئے۔ کہنے لگے میں تمہیں طعنہ پالنے کا مطلب سمجھاتا ہوں بلکہ سمجھانے کے لیے ایک سچا واقعہ سُناتا ہوں

بولے کہ یہ راولپنڈی کا واقعہ ہے راولپنڈی شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ میٹرک آرٹس میں کیا ہوا تھا۔ ایف اے میں پڑھتا تھا۔ اُس کی منگنی اُس کی پھپھو کی بیٹی کے ساتھ ہوئی تھی جو راولپنڈی کے قریب ہی ایک گاؤں میں رہتی تھی۔ یہ لڑکا اور وہ لڑکی ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے۔ ایک دن اِس لڑکے کے والد اور اُس لڑکی کی ماں کا جو کہ آپس میں بہن بھائی تھے کا کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ اس بات پر لڑکی کی ماں نے اِن دونوں کی منگنی توڑ دی۔ لڑکے کو بہت دکھ ہوا اُس نے جب اپنے ابا سے کہا کہ یہ آپ لوگوں نے کیا کیا تو وہ بولا کہ منگنی میں نے نہیں توڑی تمہاری پھپھو نے توڑی ہے۔ اُس سے جا کر پوچھو

اِس پر وہ لڑکا اپنی پھپھو کے گھر اُس کے گاؤں پہیچا۔ اُس کی پھپھو اُس وقت پُولھے میں لکڑیاں جلا کر ہانڈی بنا رہی تھی۔ لڑکے نے اپنی پھپھو سے کہا

پھپھو میں مانتا ہوں کہ میرے ابا کی اور تمہاری آپس میں لڑائی ہوئی ہے پر اس میں ہمارا کیا قصور۔ تم نے ہماری منگنی کیوں توڑ دی

آُس کی پھپھو اُس کو آتا دیکھ کر ہی غصے میں آ گئی تھی۔ اُس نے پُولھے میں سے جلتی ہوئی ایک سب سے موٹی لکڑی جِسے وہ پنجابی میں چؤ بولتے ہیں نکالی اور اُس کی طرف پھینکتے ہوئے اُسے اپنی زبان میں طعنہ مارا کہ تم کون سے ڈاکٹر لگے ہُوئے ہو جو میں اپنی بیٹی تمہارے ساتھ بیاہ دوں

طعنہ لڑکے دِل پر لگا اور اُس نے واقعی اُسے  اپنے دل پرلگا لیا۔ چُپ چاپ خاموشی سے اپنے گھر واپس آ گیا۔ کسی سے پتا کیا کہ ڈاکٹر کیسے بنتے ہیں پتا چلا کہ میٹرک سائنس کے ساتھ ہو تو ایف ایس سی میں داخلہ ملتا ہے پھر اُس میں اتنے نمبر لینے پڑتے ہیں کہ میڈیکل کالج میں داخلہ ہو جائے۔ اُس کے بعد پانچ سال وہاں پڑھ کر پاس ہوں تو ڈاکٹر بنتے ہیں۔

اُس نے خاموشی سے دوبارہ میٹرک میں داخلہ لے لیا سائنس کے ساتھ۔  چُپ سادھ لی تھی اُس نے، گُم سا ہو گیا اپنے آپ میں۔ میٹرک کر لیا اور ایف ایس سی میں داخلہ بھی لے لیا۔ دو سال کے بعد ایف ایس سی میں اتنے نمبر لیے کہ اُس کا میڈیکل کالج میں داخلہ ہو گیا۔ اور وہ ڈاکٹر بن گیا۔

اُدھر گاؤں کی وہ بھولی بھالی لڑکی بھی بہت جی دار نکلی، اکڑ گئی اپنے گھر والوں کے سامنے اور سارے سماج کے سامنے کہ شادی کرے گی تو اُسی لڑکے سے ساتھ

یہ ہوتا ہے طعنہ دل پر لگانا، اُسے پالنا پوسنا، اُس کی پرورش کرنا۔ اِسے پنجابی میں بولی ویاہنا بھی کہتے ہیں پنجابی میں طعنے کو بھی بولی مارنا کہا جاتا ہے۔ اُنہوں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ طعنہ دِل پر وہی لیتے ہیں جو دِل والے ہوتے ہیں۔

ہمیں لگا کہ ہمیں کوئی خزانہ مِل گیا ہے۔ ہم نے اُن استاد کا ہاتھ چُوما ، اُنہیں سلام کیا اوروہاں سے چل دیے۔ چلتے چلتے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر دل ٹٹولا، دھڑک رہا تھا۔ اُسے دھڑکتا دیکھ کر جب اُس کی موجودگی کا یقین ہو گیا تو ایک دم سے جوش میں آئےاور اپنے آپ سے کہا  کہ اب مارے ہمیں کوئی طعنہ ہم بھی اُسے دِل پر لیں گے اور پال کر دکھائیں گے اور اگر کسی نے ہمیں بولی ماری تو اُسے بیاہ کر بھی دکھائیں گے۔ یہی سوچتے سوچتے اپنے گھر واپس ٓ گئے۔

Share.

Leave A Reply

shop