معاف کیجئے گا۔ میرا یہ موبائل میرے ہی خلاف ہے۔ جب بھی مجھے کسی اپنے کی یاد آتی ہے تو میں موبائل ہاتھ میں لیے سوچتا ہوں کہ اُنھیں کال کروں یا نہ کروں۔ کیوں کہ وہ خود تو کبھی کال کرتے نہیں۔ وہ کیا کہیں گے کہ میں اتنا بے تاب کیوں ہوں۔ یہی سوچتے ہوئے اگر میرا ہاتھ ذرا سا بھی موبائل کو چھُو جائے تو یہ اُسے کال ملا دیتا ہے اور میرے روکتے روکتے بھاگتا ہے اُن کے کان میں بتانے کے لیے۔ چغل خور کہیں کا۔ میرا بھرم رکھنا تو اِسے آتا ہی نہیں۔