پھول جیسا ہے وہ یہ خوشبو اُسی کی ہے
الفاظ اُسی کے ہیں یہ گفتگو اُسی کی ہے
لب و لحجہ اُسی کا ، یہ دل لگی اُسی کی ہے
یہ ترنم بھی اُس کا ہے یہ راگنی اُسی کی ہے
زبانیں تو اور بھی جانتا ہے دنیا بھر کی وہ
زبان کی چاشنی بتاتی ہے یہ اردو اُسی کی ہے
ادائیں اُسی کی ہیں، یہ خُو اُسی کی ہے
اِس دل کو بھی تو جستجو اُسی کی ہے