ایک دوست کے فیس بک پیج پر محسن گیلانی کا یہ شعر لکھنے پر

چلوں کیسے میری سانسوں میں قضا ٹھری ہے

وہ جو معصوم سی آنکھوں میں جفا ٹھری ہے

محسن گیلانی

قضا بھی وہی ہے، جفا بھی وہی ہے، دوا بھی وہی ہے

جو بھی اُس کی ادا ٹھری ہے وہی تیری دوا ٹھری ہے

وحید اقبال ماجد

Share.

Leave A Reply

shop