ادب کے لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹ مارنا غلط ہے اور جھوٹ بولنا صحیح ہے مگر وہ جھُوٹ بولنے سے منع بھی کرتے ہیں۔ ایک بچے نے ہم سے پُوچھا کہ اگر جھُوٹ بولنا صحیح ہے تو اس سے منع کیوں کیا جاتا ہے۔ ہم چکرا کررہ گئے۔ ہم نے اُسے کہا کہ چلو آؤ کِسی پُوچھ لیتے ہیں

سب سے پہلے ہم نیت کے پاس گئے اُسے پُوچھا تو کہنے لگی کہ دیکھو جِس طرح تُم لوگوں میں اچھے اور بُرے لوگ ہوتے ہیں اِسی طرح ہم لوگوں میں نیت بھی اچھی اور بُری ہوتی ہے۔ اگر تُم اچھی نیت سے پُوچھو گے تو تمہیں لگے گا کہ  جھُوٹ مارنا بھی غلط ، جھُوٹ بولنا بھی غلط ، جھُوٹ کا نام لینا ہی غلط۔ اور پُوچھنے والے کی تو نیت ہی خراب اور اگر بُری نیت سے پُوچھو گے تو تمہیں خود کو محسوس ہو گا کہ چاہے جھُوٹ مارو چاہے جھُوٹ بولو دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ اندر سے تُم دونوں کے ہی حق میں ہو گے۔ مگر یہ صحیح طرح تُمہیں تب سمجھ ٓئے گا جب تُم پکڑے جاوگے۔

پہلی صورت میں “نیت خراب” اور دوسری صورت میں “تم پکڑے جاؤ گے” سُن کر ہمارا دِل بجھ سا گیا۔

اُسی بجھے دِل کے ساتھ ہم با دِلِ نخواستہ دل سے پاس گئےاُس سے پُوچھا تو وہ صاف صاف بولا کہ جھوٹ مارنا درست ہے۔ کہنے لگا کہ اس سے چوٹ لگتی ہے وہ بھی دل پر۔ اُس نے کہا کہ جس طرح پتھر مارنے سے جسم زخمی ہوتا ہے اُسی طرح جھُوٹ مارنے سے دل زخمی ہوتا ہے۔ اگر نہیں یقین تو میرے اندر جھانک کر دیکھ لیں۔ سارا دِل زخموں سے چُور چُور ہے۔ اُس نے سو دلیلیں دیں۔ اپنی دلیلوں میں وہ کہتا ہے کہ ادب جھک مارنے کو کیوں صحیح کہتا ہے جھک دینا کیوں نہیں کہتا بلکہ با ادب ہو کر جھک فرمانا کیوں نہیں کہہ دیتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جھک مارنے سے تکلیف ہوتی ہے اُس کے دل میں جس کے سامنے جھک ماری جاتی ہے۔ وہ تو ڈنڈی مارنے کو بھی بیچ میں لاتا ہے وہ کہتا ہے کہ اُس سے پوچھیں جس کا نقصان ہوتا ہے ، چیخ مارنے کی بھی دلیل دیتا ہے۔ کہتا ہے کہ کسی کو چوٹ تبھی لگے گی جب اُسے کوئی چیز ماریں گے۔ مگرجب کِسی نے اُسے آنکھ مارنے کی دلیل دینے کا کہا تو اُس نے اُسے ماننے سے انکار کر دیا

ہم نے وجہ پُوچھی تو کہنے لگا کہ میں مانتا ہوں کہ اِس سے بھی دوسرے کے دل پر چوٹ لگی ہے مگر کبھی کبھی دوسرے کا دل راضی بھی ہو جاتا ہے اس لیے یہ دلیل شفاف نہیں ہے

ہم نے اُسے کہا کہ چلو مان لیتے ہیں تمہاری باتیں پر یہ تو بتاو کہ جھُوٹ کی اِس پریشانی سے چھٹکارہ کیسے پایا جائے۔ تو کہنے لگا کہ بہت آسان ہے۔ ہم نے کہا بتاو تو بولا کہ دیکھو اس دنیا میں جو بھی بچہ پیدہ ہوتا ہے وہ سچا ہوتا ہے اُسے جھوٹ کا پتا بھی نہیں ہوتا۔ بس تم اُسے جھوٹ کا پتا نہ لگنے دو۔ اُس نے کہا کہ کہتے ہیں اگر چھ سال کی عمر تک بچے کے ساتھ جھوٹ نہ بولا جائے اور اُس کے سامنے آپس میں جھوٹ نہ بولا جائے تو اُسے ساری عمر پتا نہیں چلتا کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے۔ تو جوں جوں یہ بچے بغیر جھُوٹ کے ، بڑے ہوتے جائیں گے اس دنیا سے جھوٹ کا خاتمہ ہوتا جائے گا اور ایک دن یہ دنیا جھوٹ سے پاک ہو جائے گی۔  نہ رہے گا بانس اورنہ بجے گی بانسری۔ بس یہی ایک طریقہ ہے جس سے تم جھوٹ مارنے اور جھوٹ بولنے کے فرق کی پریشانی سے باہر نکل سکتے ہو۔ نہ اس دنیا میں جھوٹ ہو گا اور نہ تمہیں جھوٹ مارنے اور جھوٹ بولنے کے فرق کو سمجھنے کی فکر۔

ہم نے کہا کہ یہ کچھ مُشکل نہیں ہے تو کہنے لگا کہ ارادہ مصمم ہو تو کچھ بھی مُشکل نہیں جاپان کو دیکھو۔ وہاں پُورے مُلک میں ایک بھی شخص جھوٹ نہیں بولتا۔ چلو تم اپنے مُلک میں کر لو۔ ہم چُپ رہے تو کہنے لگا کہ میں سمجھ گیا تم صرف اپنے گھر میں کر لو، میری خاموشی دیکھ کر بولا سب کچھ چھوڑو تم صرف اپنی ذات میں سے جھوٹ ختم کر لو، میں سوچ میں پڑ گیا۔ میرے ساتھ کھڑا وہ بچہ ابھی تک کچھ نہ بولا تھا۔ مجھے سوچ میں دیکھ کر وہ ایک دم دل پُر اعتماد لہجے میں بولا میں ختم کروں گا جھوٹ کو اپنے آپ میں سے بھی ، اپنے گھر سے بھی اور اپنے اردگرد سے بھی۔ میں اپنا تن من ایک کر دوں گا۔ اُس کا اپنے آپ پر اتنا اعتماد دیکھ کرمجھے یقین آگیا کہ یہ بچہ کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا تو میں نے آہستہ سے اُسے کہا کہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے لو۔

Share.

Leave A Reply

shop