Share WhatsApp خود داری بازار زمانے کے سِتم سہے ، زندگی نے کئی ڈھنگ بنا لیے کچھ بن نہ پڑا جب ، خود داری کے پکوڑے لگا لیے ملے جو اور اپنے جیسے تو ساتھ وہ بھی ملا لیے مِل کے پھر ہم نے یوں خود داری کے بازار سجا لیے