ہم نے کسی شاعر کا ایک شعر پڑھا جس میں شاعر کہتا ہے کہ میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ ہم نے دل کے ٹوٹنے پر بہت غور کیا کہ بھلا اُس کا دل کیسے ٹوٹا ہو گا۔ ہم نے ٹوٹنے والی بہت سی چیزوں کے بارے میں سوچا اور اُن کے ٹوٹنے سے دل کی مماثلت جوڑ کراس بات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ کبھی اُسے شیشے کے ٹوٹنے کے ساتھ جوڑا کبھی پتھر کے ٹوٹنے کے ساتھ۔ اور کبھی لکڑی کے۔ مگر کچھ سمجھ نہ آیا۔ اُس شاعر کی پوری غزل پڑھی کہ شاید اُس میں کہیں دل کے تُوٹنے کی آواز کا ذکر ہو تو ہم اُس کی آواز سے ہی پہچان لیں مگر بات نہ بنی۔
پھر ہم نے سوچا کہ چلو دل سے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ وہ کیسے ٹُوٹتا ہے
جب دل سے پوچھا تو وہ تو بے چارہ رو پڑا اور کہنے لگا کہ یہ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں، اور دل ایسے ہی نہیں ٹُوٹ جاتا۔ پہلے وہ کسی دل کے ساتھ بندھ جاتا ہے پھر ٹوٹتا ہے
ہم نے پُوچھا یہ بتاؤ کہ دل بندھ کیسے جاتا ہے
کہنے لگا کہ یہ دل ڈھونڈتا ہے کِسی اور دل کو، اپنا ساتھی بنانے کے لیے۔ جب وہ ملتا ہے تو یہ دل پیار اور محبت کے ڈورے ڈالتا ہے اُس دل پر۔ اور اُسے کھینچتا ہے اپنی طرف۔ جب یہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو پیار اور محبت اُن دونوں کو آپس میں باندھ دیتے ہیں۔ تب دل آپس میں بندھ تو جاتے ہیں مگر ہوتے دو ہی ہیں پھر اُن دونوں کوایک کرنے کے لیے پیار اور محبت اپنی جڑیں نکالتے ہیں اور اُن کو دلوں کے اندر ہی اندر گہرائی تک لے جاتے ہیں یوں سمجھو کہ پھر دونوں دل ایک ہی ہو جاتے ہیں اکٹھے دھڑکتے ہیں اکٹھے ہنستے ہیں اکٹھے مسکراتے ہیں اکٹھے جھُومتے ہیں اکٹھے گاتے ہیں، خوش رہتے ہیں۔
پھر کبھی کسی وقت کسی ایک دل میں بد گُمانی آجاتی ہے جو آہستہ آہستہ بڑھنے لگتی ہے۔ بڑھتے بڑھتے وہ دونوں دلوں کو ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے۔ مگر وہ تو بندھے ہوتے ہیں پیار اور محبت کے ساتھ۔ جب بدگُمانی زور پکڑتی ہے تو وہ پیار محبت کی جڑوں کو دل سے باہر کھنچتی ہے۔ کچھ نکل آتی ہیں کچھ ٹوٹ کر اندر ہی رہ جاتی ہیں۔دل خون خون ہو جاتا ہے۔ انسان تو مر ہی جاتا ہے۔ یہ ہوتا ہے دل ٹُوٹنا۔
اُس پر بھی خاص بات یہ کہ جو جڑیں دل کے اندر رہ جاتی ہیں وہ پیار محبت ہی کی ہوتی ہیں اورہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ کبھی نہیں مرتیں۔ اب وہ کِسی دل سے بندھی بھی نہیں ہوتیں مگراِس دل کو اُسی دل کی طرف لبھاتی رہتی ہیں۔ ساری عمر رولاتی ہیں کبھی چین نہیں لینے دیتیں۔ گو کہ دل ٹوٹ جاتا ہے مگر یہ ٹُوٹا ہوا دل بھی راہ اُسی دل کی تکتا رہتا ہے
ہم نے آبدیدہ ہو کر پُوچھا کہ جب دونوں دل ایک ہی ہوتے ہیں تو اُن کے بیچ بدگُمانی کیوں آتی ہے تو کہنے لگا کہ شیطان وسوسے ڈالتا ہے
ہم نے حیران ہو کر پُوچھا کہ ہیں! وہ کیوں ڈالتا ہے وسوسے۔
روتے ہوئے بولا وہ اجاڑنا چاہتا ہے ان دلوں کو
ہم نے پُوچھا پر کیوں ؟ تو بولا خدا جو بستا ہے اِن میں، اصل میں وہ خدا کے گھر کو ویران کرنا چاہتا ہے، اس لیے
بات تو ہمیں سمجھ آ گئی مگر ہم روئے بہت۔
ہم نے تو ایسے ہی بات ہنسی مذاق میں بات شروع کی تھی مگر دل نے دل ٹُوٹنے کا راز سمجھا کراپنا درد دکھا دیا ہمیں رولا نے کے لیے۔