ایک دن مَیں ایک ایسے اسکول کی ایک تقریب میں گیا جس کے بچوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کے دل میں رحم ڈالا ہوا ہے۔ وہ اُن کے لیے ایسا سوچتے ہیں جیسا کوئی اپنے بچوں کے لیے سوچے۔
جب میں وہاں پہنچا تو اُس وقت برقعے میں ایک خاتون تقریر کر رہی تھیں۔ برقعے میں یہ تو پتا نہیں چلتا کہ یہ کون ہیں،مگر اُن کی باتیں ایسی تھیں کہ دل میں اُترتی جاتی تھیں
ان کی باتیںکیا تھیں، آمنے سامنے بیٹھے ہوئے کسی اپنے کے ساتھ اُن کی گفتگو تھی۔ جیسے کوئی اپنے بہن بھائی یا بچے کو پاس بٹھا کر پیار سے سمجھا رہا ہو۔ باتیں ایسی کہ ایک ایک لفظ الگ، موتیوں کی طرح، محبت اور شفقت میں ڈوبا ہوا اور تاثیر ایسی کی دل میں اترتا جائے۔ اور ترتیب ایسی جیسے اُن موتیوں کو تسبیح کی طرح پرویا ہوا ہو۔ سب اللہ اور اُس کے رسول کی باتیں۔ یاد کر لیں اور دل ہی دل میں پڑھتے جائیں۔ لطف بھی اٹھائیں اور اپنے آپ کو بدلتے بھی جائیں۔
بات کرتے وقت سامنے بیٹھے ہوئے کا خیال تاکہ وہ سمجھ سکے۔ ہر بات الگ ڈھنگ سے۔ بچوں کے ساتھ الگ ڈھنگ، ماں باپ کے ساتھ الگ۔ تعلیم کی الگ، تربیت کی الگ۔ کہیں قرآن کا ذکر، کہیں حدیث کا حوالہ اور کہیں دعائیں۔ سب حکمت کے پھول اور علم و دانش کے موتی، ہر طرف خوش بُو اور چمک بکھیرتے ہوئے۔ جتنے چاہیں اٹھا لیں، جھولیاں بھر لیں پھر چاہیں تو خود استعمال کریں یا بانٹتے پھریں، کبھی ختم نہ ہوں۔
اُن کی ان باتوں سے ہونے والی انسپریشن اور موٹیویشن کی تو بات ہی اور ہے۔ انسپریشن ایسی کہ جو کسی سوئے ہوئے کو جگا دے اور موٹیوشن ایسی جو کسی راہ چلتے کو بھی پہلے سیدھا رستہ دکھائے پھر دوڑنے کی طاقت دے دے یا کسی دوڑتے ہوئے کو پَر لگا دے اور وہ اڑنے لگے۔اُن کی باتیں سُن کر دل میں خیال آیا کہ ہمارے معاشرے میں صرف استادوں کی ہی کمی ہے۔

Share.

Leave A Reply

shop