اصل چیز بنانے والے کے پاس ایک سوچ یا ایک آئیڈیا ہوتا ہے. جس سے وہ اپنے خیال میں ایک چیز بناتا ہے پھر اسی چیز کو وہ عملی شکل دے کر اس دنیا میں اس کا وجود پیدا کرتا ہے مگر وہ وجود یا شکل اس کے دماغ میں بنے ہوئے ماڈل کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ اس کے قریب ہوتا ہے کیوں کہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے مٹیریل اور مہارت کی کمی ہوتی ہے. مگر پھر بھی چیز نئی اور شاندار بنتی ہے جو کہ مٹیرل اور مہارت کی دستیابی کے ساتھ ساتھ ساتھ بہتر ہوتی جاتی ہے. اصل بنانے والا بنیادی طور ہر پیسے کے لیے کام نہیں کرتا بلکہ اپنے شوق اور تجسس کی خاطر کام کرتا ہے. جب کہ نقل کرنے والا اصل کی طرح کی چیز بنا کر پیسے کمانا چاہتا ہے جبکہ اُسے اس چیز کی سمجھ نہیں ہوتی. وہ پیسے کمانے کے لالچ میں بغیر سمجھ کے کام کرتے ہوئے اصل بنی ہوئی چیز کی بھی شکل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔

Share.

Leave A Reply

shop