باغ میں سیر کرتے ہوئے جب اُس سے نظریں چار ہوئیں تو دل دھڑک اُٹھا اور کوئی جادو سا چھانے لگا۔ہر طرف تارے نظر آنے لگے، جھلمل جھلمل سے۔ چاند بڑا سا ہو گیا۔ کائنات کی ہر چیز رقص کرنے لگی۔ سارا باغ بدل گیا۔ درختوں کے پتے ساز بجانے لگے۔ ہوا رگنی گانے لگی۔ ندی گنگنانے لگی۔ کلیاں مسکرانے لگیں. بھنورے موج میں آ گئے۔ پھولوں پر خمار چھا گیا۔ ہر چیز میں مستی، ہر چیز پر سحر طاری۔ ہر کسی کا باطن ظاہر ہونے لگا۔ کسی میں چاندی کی چمک۔ کسی میں سونے سی دمک۔ کسی میں آواز کا جادو، کسی کی چال بے قابو۔ ، کوئی اپنے رنگ میں، کوئی نئے ڈھنگ میں، ہر کوئی اپنی ترنگ میں، کسی کا روپ سہانا اور کسی کا انداز نرالا۔ کوئی کُو کُو، کوئی ٹین ٹین، کوئی ریں ریں، کوئی میں میں، کوئی ٹھمک ٹھمک کوئی مٹک مٹک۔ کوئی چھن چھن اور کوئی کھن کھن۔ سب سُر اور تال لَے میں آ گئے۔ سب اُسی کی طرف دیکھنے لگے۔ کسی کے دل میں چاہنے کی آرزو اور کسی کو تمنا کہ وہ ہو رو برو۔
ہر کوئی اُس کے آگے پیچھے اور وہ! جی چاہے تو کسی پر نظر ڈالے اور جی چاہے تو نہ ڈالے۔ دل میں آئے تو بات کرے، نہ آئے تو اُسے کون کہے۔
وہ سمجھتا تھا کہ صرف وہ ہی اُسے چاہتا ہے پر اُس کی تو پوری دنیا دیوانی تھی۔ جب سے اُس کی اُس پر نظر پڑی تھی تو اُس کی کائنات ہی بدل گئی۔ اُسے محسوس ہوا کہ وہ خود وہ ہے ہی نہیں جو اُس سے چند لمحے پہلے تھا۔ گم سم سا ہو کر رہ گیا، محو حیرت۔
وہ سراپا نُور تھا یا تجلی، کہا نہیں جا سکتا۔ مگر جو بھی اُس کی ایک جھلک دیکھ لے اُس پر رِقعت طاری ہو جائے۔
اتنے میں ایک لمبی داڑھی والا بزرگ نمودار ہوا اور اُس نے چند شعر پڑھے جن میں سے کچھ سمجھ آئے کچھ نہ آئے۔ جو سمجھ آئے وہ خود سے ہی یاد ہو گئے۔

حیرت بھی حیران ہوئی، کوئی جادوگر سا آ گیا
سب الٹا پلٹا ہو گیا کوئی نشہ سا گہرا چھا گیا

پانی تھا جو رواں دواں دیکھتے ہی وہ جم گیا
تیز رو جو وقت تھا ایک دم سے تھم گیا

آسمان کے تاروں کو تیری چمک دمک کچھ کہہ گئی
چاند کی ٹھنڈی روشنی آہیں بھرتی رہ گئی

پھر وہ جانے لگا اور جاتے جاتے ایک دم سے بولا۔ سب کچھ وہی ہے بس تمہاری نظر بدل گئی ہے۔ لَو لگ گئی ہے تمہیں۔ اسی کو عشق کہتے ہیں۔ ساری عمر کا روگ ہے۔ اب اسی نشے میں زندگی گزارو گے اور تمام عمر عشق کے ساگر میں غوطے لگاؤ گے مگر ہمیشہ تشنہ لب ہی رہو گے۔

Share.

Leave A Reply

shop