وہ بہت پریشان تھا۔ پریشانی ایک نہیں تھی بلکہ شاید پریشانیوں کا کوئی ٹولہ مل کر اُس کے گھر آگیا تھا۔ اُس نے ان سے جان چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ ہر وقت پریشان اور بے چین رہنے لگا۔ بہت سوچا، سمجھ نہ آیا۔ دوستوں سے پوچھا کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ آخر مارا مارا پھرنے لگا اور جگہ جگہ سے پوچھنے لگا۔
ایک دن اُسے ایک درویش ملا جب اُس سے پوچھا تو اُس نے اُسے کہا “تمہاری زندگی میں ایک انسان ایسا تھا جو تمہارا بہت خیال رکھتا تھا۔ وہ تمہارا سب سے پیارا دوست تھا۔ وہ بے لوث تھا۔ اُسے لالچ نہیں تھا۔ وہ تمہاری بہت پرواہ کرتا تھا۔ وہی تمہاری سب پریشانیوں کو ٹالتا تھا اور تمہیں خوش رکھتا تھا اُسے تم نے اُسے چھوڑ دیا ۔جاؤ! جا کر اُسے ڈونڈھو۔
وہ اُٹھ کر واپس آگیا۔ اُس کی بات ماُس کے دِل کو لگ رہی تھی۔ اُس نے اپنی پرپچھلی ساری زندگی پر نظر ڈالی۔ سب تو اُسی طرح اُس کے ساتھ تھے۔ سمجھ میں نہ آیاوہ دوبارہ اُس درویش کے پاس گیا اور کہا کہ نہیں پتا چلا کہ وہ کون ہے۔
اُس نے اُس کی نظروں سے نظریں ملائیں۔ اُس کی آنکھوں میں بہت گہرائی تھی اوربہت پیار سے بولاوہ تم خود ہو۔

Share.

Leave A Reply

shop