انٹرنیٹ پر ہم دوستوں کی ایک بحث چل رہی تھی، اپنی ہی طرف کے ایک دوست کی ہاں میں ہاں نہ ملانے پر انہوں نے میرے لیے یہ شعر لکھ دیا

“اختلاف جہاں کا رنج نہ تھا
دے گئے مات ہم خیال ہمیں”

جس کے جواب میں میں نے درج ذیل شعر کہہ کر لکھ دیا

اختلاف رائے میں بھی اپنوں کا احترام و خیال کرتے ہیں
زمانہ لگتا ہے، رشتوں کی پرورش مہ و سال کرتے ہیں

کون ہو گا جو جیتے لفظوں سے اور ہار دے اپنوں کو
جانے بھی دیجیے صاحب آپ بھی کمال کرتے ہیں

Share.

Leave A Reply

shop